مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے خلاف سخت اور توہین آمیز بیان کے بعد ان کے اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان بے مثال کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
اسرائیلی روزنامے یدیعوت احرونوت نے اس حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر اسحاق ہرزوگ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی وضاحت کے منتظر ہیں۔ وہ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ آیا وزیر اعظم کی جانب سے اشتعال دلانے کے نتیجے میں یہ گستاخانہ بیانات سامنے آئے، جن سے اسرائیلی حکومتی وقار کو شدید نقصان پہنچا ہے، یا ایسا نہیں تھا۔
اخبار نے صدر کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ ان بیانات کے پیچھے وزیر اعظم کا کردار تھا اور انہوں نے امریکی صدر کو اس پر اکسایا، تو یہ واضح ہو جائے گا کہ انہوں نے تمام حدود عبور کر لی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنقید اور توہین میں واضح فرق ہوتا ہے، اور امریکی صدر کے بیانات کو صریحاً توہین قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی صدر کے قریبی افراد کا کہنا ہے کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا وزیر اعظم اس معاملے میں براہ راست ملوث تھے اور کیا انہوں نے امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ وہ صدر ہرزوگ کے خلاف اس نوعیت کے سخت الفاظ استعمال کریں۔
امریکی صدر نے واشنگٹن میں وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے صرف ایک دن بعد غیر معمولی انداز میں صدر ہرزوگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شرم آنی چاہیے کہ وہ نیتن یاہو کو معاف نہیں کر رہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ بنیامین نیتن یاہو جنگ کے دوران ایک اچھے وزیر اعظم ثابت ہوئے، وہ مضبوط تھے اور ہم نے ان کے ساتھ بہترین انداز میں کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ جیسا کہ سب جانتے ہیں، اسرائیل میں ایک صدر موجود ہے جو جاری عدالتی کارروائی کے باوجود وزیر اعظم کو معاف کرنے سے انکار کر رہا ہے، اور میرے نزدیک یہ ایک شرمناک طرز عمل ہے۔
آپ کا تبصرہ