15 فروری، 2026، 10:22 PM

جنیوا مذاکرات، جامع منصوبہ تیار، مذاکرات جوہری پروگرام تک محدود ہوں گے، ایرانی رکن پارلیمنٹ

جنیوا مذاکرات، جامع منصوبہ تیار، مذاکرات جوہری پروگرام تک محدود ہوں گے، ایرانی رکن پارلیمنٹ

ایرانی پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ جنیوا مذاکرات میں جوہری ذخائر بیرون ملک منتقل کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں اور میزائل و علاقائی امور مذاکرات کا حصہ نہیں ہوں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان پابندیوں کے خاتمے اور جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کا دوسرا دور 17 فروری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوگا۔ اس سے قبل ایرانی مذاکراتی ٹیم نے آئندہ نشست میں وقت کے مؤثر استعمال کے لیے ایک جامع مجوزہ پیکج تیار کرلیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر یورینیم کی افزودگی روکنے یا اسے ترک کرنے کا کوئی منصوبہ زیر بحث نہیں ہے اور نہ ہی ایران کے جوہری ذخائر کو ملک سے باہر منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنیوا مذاکرات کا میزائل پروگرام یا علاقائی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ ماضی کی بات چیت میں بعض بنیادی نکات امریکی فریق تسلیم کر چکا ہے۔

رضائی کے مطابق خطے میں اصل مسئلہ صہیونی حکومت ہے اور اس کی دھمکیوں کے بارے علاقائی ممالک کے ساتھ کسی علیحدہ فریم ورک میں گفتگو ہونی چاہیے تاکہ ترقی، امن اور مشترکہ مفادات کو فروغ دیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران منگل کے روز جنیوا میں جوہری خدشات کے حل کے لیے آمادہ ہے، تاہم سابقہ تجربات کی بنیاد پر نتائج کے حوالے سے زیادہ خوش بین نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان پہلا مذاکراتی دور رواں ماہ کے اوائل میں عمان کے دارالحکومت مسقط میں منعقد ہوا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مسقط مذاکرات کو ایک مثبت اور اچھا آغاز قرار دیا تھا۔

News ID 1938081

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha