15 فروری، 2026، 10:47 PM

12 روزہ جنگ کے شہدا کو خراج عقیدت، ٹی وی پروگرام میں میزائل لانچر کی نمائش+ تصاویر

12 روزہ جنگ کے شہدا کو خراج عقیدت، ٹی وی پروگرام میں میزائل لانچر کی نمائش+ تصاویر

پروگرام ’’مہدیہ معلّی‘‘ کے پروڈیوسر سعید ستودگان نے کہا ہے کہ اس سیزن میں 12 روزہ جنگ کے شہدا، زخمیوں اور ایرانی عوام کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی معورف ٹی وی پروگرام ’’مہدیہ معلّی‘‘ کے پروڈیوسر سعید ستودگان نے کہا ہے کہ اس سیزن میں 12 روزہ جنگ کے شہدا، زخمیوں اور ایرانی عوام کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ محرم سیزن کی ریکارڈنگ مکمل ہو چکی تھی اور پروگرام تدوین کے مرحلے میں تھا کہ اسی دوران 12 روزہ جنگ شروع ہو گئی۔ چونکہ محرم کی نشریات جنگ سے قبل ریکارڈ کی گئی تھیں، اس لیے وہ اس اہم واقعے کا مکمل احاطہ نہیں کر سکیں۔ بعد ازاں نشر ہونے والے پروگرام میں اس کمی کو پورا کرنے کے لیے چند خصوصی حصے شامل کیے گئے جن میں جنگ کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

شہدا کے حوالے سے ذمہ داری کا احساس

سعید ستودگان کا کہنا تھا کہ پروگرام ٹیم خود کو 12 روزہ جنگ کے شہدا، زخمیوں اور ایران کے عوام کی جرات و یکجہتی کی مقروض سمجھتی تھی۔ اسی احساس کے تحت شعبان کے سیزن میں نہ صرف ان قربانیوں کو سراہا گیا بلکہ دشمن کے مقابل ضروری پیغام بھی دیا گیا۔

12 روزہ جنگ کے شہدا کو خراج عقیدت، ٹی وی پروگرام میں میزائل لانچر کی نمائش+ تصاویر

’’حسینیہ معلّی‘‘ سے ’’مہدیہ معلّی‘‘ تک

انہوں نے کہا کہ ماہ شعبان کے احترام میں پروگرام کا نام عارضی طور پر ’’حسینیہ معلّی‘‘ سے بدل کر ’’مہدیہ معلّی‘‘ رکھا گیا، جبکہ محرم میں اسے دوبارہ پرانے نام سے پیش کیا جائے گا۔ یہ تبدیلی بعض علما اور بزرگ شخصیات کے مشورے سے کی گئی۔

میزائل اور ڈرون کی نمائش

پروگرام میں ملکی دفاعی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ڈرون اور میزائل یونٹس کو مدعو کیا گیا۔ ان یونٹس نے اپنے آپریشنل آلات سمیت شرکت کی، جن میں وہ حقیقی میزائل لانچر بھی شامل تھا جو 12 روزہ جنگ میں استعمال ہوا تھا۔

12 روزہ جنگ کے شہدا کو خراج عقیدت، ٹی وی پروگرام میں میزائل لانچر کی نمائش+ تصاویر

پروڈیوسر کے مطابق یہ تمام سازوسامان حقیقی اور فعال نوعیت کا تھا اور اس کا مقصد عوام کو ملکی دفاعی صلاحیتوں سے آگاہ کرنا اور ان کے اعتماد میں اضافہ کرنا تھا۔

دفاعی آلات کی منتقلی ایک چیلنج

ستودگان نے بتایا کہ تہران میں اسٹوڈیو تک واقعی میزائل آلات کی منتقلی آسان نہ تھی، کیونکہ ٹیم ماڈل استعمال کرنے کے بجائے اصل آلات دکھانا چاہتی تھی۔

انہوں نے اس سلسلے میں فضائیہ کے حکام کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ خصوصی انتظامات کے تحت یہ منتقلی ممکن بنائی گئی۔

ان کے مطابق ان خصوصی اقساط کو ناظرین، شہدا کے اہلِ خانہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مثبت ردِعمل ملا اور پہلی بار ملک کی ڈرون صلاحیتوں کا ایک حصہ اس انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا گیا، جس سے عوام کو اطمینان اور حوصلہ ملا۔

News ID 1938084

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha