15 فروری، 2026، 11:33 AM

ایران کے خلاف جارحیت پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی، تہران

ایران کے خلاف جارحیت پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی، تہران

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ مجید تخت روانچی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی جنگ کا آغاز پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی نشریاتی ادارے کو تہران میں دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ معاہدے کی سنجیدگی ثابت کرنا اب امریکا کی ذمہ داری ہے۔ اگر واشنگٹن مخلص ہے تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں ماہ کے آغاز میں عمان میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے، جبکہ اگلا دور جنیوا میں متوقع ہے۔  ابتدائی بات چیت مجموعی طور پر مثبت سمت میں رہی، تاہم حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران نے ساٹھ فیصد تک افزودہ یورینیم کو کم سطح پر لانے کی پیشکش کی ہے، جو لچک دکھانے کا ثبوت ہے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکا پابندیوں کے معاملے پر گفتگو کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’’صفر افزودگی‘‘ کا مطالبہ اب زیر بحث نہیں اور ایران اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ اسی طرح انہوں نے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات سے بھی انکار کیا اور کہا کہ دفاعی صلاحیتوں سے دستبرداری ممکن نہیں۔

تخت روانچی نے خطے میں امریکی فوجی تعیناتی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی نئی جنگ کا منظرنامہ نہایت خطرناک ہوگا۔’’ایک اور جنگ سب کے لیے صدمہ خیز ہوگی، سب متاثر ہوں گے، خصوصاً وہ جو جارحیت کا آغاز کریں گے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کو اپنی بقا کے لیے خطرہ محسوس ہوا تو وہ اس کا مناسب جواب دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال کا تصور بھی دانشمندانہ نہیں کیونکہ پورا خطہ بدامنی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو کسی بھی تصادم کی صورت میں جائز ہدف سمجھا جائے گا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کے ممالک کی اکثریت جنگ کے خلاف ہے اور سفارتی حل کی حامی ہے۔ ایران بھی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے، لیکن مکمل یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، اس لیے چوکنا رہنا ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی جانب سے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا، تاہم دوسرے فریق کو بھی اپنی نیت ثابت کرنا ہوگی۔

News ID 1938071

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha