مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: ایران میں حالیہ بدامنی کے واقعات کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے، تاہم کسی بھی سنجیدہ تجزیے کا مرکزی نکتہ اس میں امریکہ اور اسرائیل کے کردار کا تعین ہے۔ یہ کردار اتنا واضح ہے کہ مغربی حکام اور ذرائع ابلاغ بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے۔
رہبرِ انقلاب کے مطابق حالیہ بدامنی دراصل ایک امریکی سازش ہے، جس کا اصل مقصد ’’ایران کو ہڑپ کرنا‘‘ ہے۔ اگر اس نکتے کو درست طور پر سمجھا جائے تو یہ امریکہ کی ایک مسلسل اور دیرینہ ناکام حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا ہدف ایران پر سیاسی، معاشی اور سلامتی کے شعبوں میں دوبارہ امریکی غلبہ قائم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ کا ایران کے ساتھ دشمنی کسی ایک پالیسی، کسی مخصوص حکومت یا حتیٰ کہ کسی ایک معاملے، جیسے جوہری پروگرام، تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ ایک خودمختار، مضبوط اور بااختیار ایران کا وجود ہے، جسے امریکہ اپنے مفادات کے لیے ایک چیلنج سمجھتا ہے۔
اسلامی انقلاب سے قبل ایران مغربی ایشیا میں امریکہ کا ایک اہم سہارا سمجھا جاتا تھا۔ ملک کا سیاسی، عسکری اور معاشی ڈھانچہ اس انداز میں تشکیل دیا گیا تھا کہ وہ واشنگٹن کے مفادات کے عین مطابق کام کرے۔ اسلامی انقلاب نے اس پورے توازن کو یکسر بدل دیا اور ایران کو ایک زیرِ اثر ملک سے نکال کر ایک خودمختار اور طاقتور ریاست میں تبدیل کر دیا۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ہی امریکی پالیسی کا بنیادی ہدف واضح ہو گیا، یعنی ایران کو دوبارہ ایسی حالت میں لے جانا جہاں اس کے اہم فیصلے واشنگٹن کے مفادات سے متصادم نہ ہوں بلکہ انہیں تقویت دیں۔ رہبرِ انقلاب کی جانب سے جس تصور کو ’’ایران کو ہڑپ کرنے‘‘ کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے، اس کا اصل مفہوم ایران کی آزاد اور خودمختار مرضی کا خاتمہ ہے۔
امریکی سوچ کے مطابق یہ غلبہ کئی پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ مثلاً سیاسی سطح پر غلبہ حاصل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایران کو ایک قابلِ اندازہ اور قابو میں رکھنے والی ریاست بنا دیا جائے، جس کی خارجہ پالیسی امریکی نظام کے دائرے میں گردش کرے۔ جبکہ معاشی سطح پر ہدف ایران کے قیمتی وسائل پر مختلف شعبوں میں بلا خوف ہراس اور کسی بھی رکاوٹ کے بغیر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
سلامتی اور عسکری سطح پر امریکہ ایسا ایران چاہتا ہے جو نہ صرف خطے میں امریکی مفادات اور اس کے اتحادی، یعنی اسرائیل، کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہ ہو بلکہ اس کے برعکس امریکی فوجی اڈوں اور افواج کی میزبانی کرے، امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کا محافظ بنے اور ایران کی منفرد جغرافیائی اور تزویراتی حیثیت کو امریکہ کے حریفوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ پالیسی امریکہ میں کسی ایک فرد یا کسی مخصوص حکومت سے وابستہ نہیں۔ مختلف امریکی حکومتوں کے درمیان فرق صرف طریقۂ کار اور حکمتِ عملی کا ہوتا ہے۔ چاہے ڈیموکریٹ ہوں یا ریپبلکن، سب ایک نکتے پر متفق ہیں کہ ایران کو خطے میں ایک مثال بننے والی طاقت نہیں بننا چاہیے۔ اس جغرافیائی محلِ وقوع، آبادی، قدرتی وسائل اور سائنسی صلاحیتوں کے ساتھ اگر ایران خودمختار رہے تو وہ مغربی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکہ کے مطلوبہ نظام کو شدید چیلنج کر سکتا ہے۔
اسی تناظر میں امریکہ کے نزدیک ایران کے اندر ہونے والے احتجاج، سماجی تقسیم، معاشی بے چینی اور بدامنی محض داخلی مسائل نہیں بلکہ ایک بڑی حکمتِ عملی کے تحت استعمال ہونے والے عوامل ہیں، جنہیں پیدا کرنا، گہرا کرنا اور پھیلانا مقصود ہوتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد قومی اتحاد کو بتدریج کمزور کرنا ہے، کیونکہ جو ملک اندرونی تناؤ میں مبتلا ہو، وہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی کم صلاحیت رکھتا ہے۔
قاجار دور کے وسط سے لے کر پہلوی عہد کے ابتدائی اور درمیانی برسوں تک ایران کی سیاست اور معیشت پر برطانیہ کا گہرا اثر اور غلبہ رہا، جبکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے عملاً ایران کو اپنے زیرِ اثر لے لیا۔ تاہم 1979ء کے اسلامی انقلاب نے ایران کو عالمی طاقتوں کے تسلط سے نکال کر آزادی کی راہ پر گامزن کر دیا۔
آج دشمن کی تمام سازشیں اور ناکام کوششیں اسی تاریک دور کی طرف واپسی کی خواہش کا اظہار ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایرانی قوم کی بیداری اور اتحاد نے ہمیشہ اس خطرناک خواب کو ناکام بنایا ہے اور آئندہ بھی بنائے رکھے گا۔
آپ کا تبصرہ