2 ستمبر، 2025، 8:44 PM

جنگ کا ارادہ نہیں تاہم جارحیت کی صورت میں اپنا بھرپور دفاع کریں گے، صدر پزشکیان

جنگ کا ارادہ نہیں تاہم جارحیت کی صورت میں اپنا بھرپور دفاع کریں گے، صدر پزشکیان

ایرانی صدر پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کسی کے ساتھ کشیدگی کا خواہاں نہیں تاہم جارحیت کی صورت اپنے دفاع کی بھرپور طاقت رکھتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے صہیونی حکومت کی دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ ایران کسی کے خلاف جنگ شروع کرنا نہیں چاہتا، لیکن اگر کوئی جارحیت کرے تو پوری طاقت سے اپنا دفاع کرے گا۔

چین کے سفر کے دوران چینی سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو میں صدر ایران نے چین کی ترقی کے عمل کو منظم اور قابل تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب میں دس سال پہلے بیجنگ آیا تھا تو یہ شہر اس وقت آلودگی، شدید ٹریفک اور دیگر مسائل کا شکار تھا، لیکن اب دارالحکومت میں واضح تبدیلی آچکی ہے اور وہ مسائل نظر نہیں آتے۔

پزشکیان نے صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ عالمی حکمرانی کی اصلاح کے منصوبے کی حمایت کی اور کہا کہ یہ ایک مکمل اور جامع منصوبہ ہے، جس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ اس کے تمام پہلو اور اجزاء درست طور پر نافذ کیے جائیں۔ یہ پروگرام دنیا میں کثیرالطرفہ تعاون اور انصاف پر مبنی رویے کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد ان دوہرے معیاروں کو ختم کرنا ہے جن کی وجہ سے صہیونی حکومت اور اس کے حامی کھلے عام عالمی قوانین کو نظر انداز کرتے ہیں اور دوسری طرف انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کے دعوے بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ایسے ممالک کو جو عالمی یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف چین کے ساتھ کھڑے ہیں، ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔ ضروری ہے کہ استعماری اور طاقتور ممالک کی توسیع طلبی کو روکا جائے۔ یہ ممالک ظالمانہ پابندیوں اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کے ذریعے دوسروں کو ان کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔

پزشکیان نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو صدر شی جن پنگ کی اسٹریٹجک سوچ کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ یہ منصوبہ امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے تعاون بڑھانے کی سمت میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یورپی ٹرائیکا کی جانب سے اسنیپ بیک میکانزم فعال کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بھی دوہرے معیار کی ایک واضح مثال ہے۔ وہی طاقتیں جنہوں نے خود جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی، اب ایران پر الزام لگاتی ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔

صہیونی حکومت کی جانب سے ممکنہ فوجی حملے کے بارے میں صدر نے کہا کہ ایران نے نہ پہلے جنگ اور بدامنی کا آغاز کیا تھا اور نہ اب ایسی خواہش رکھتا ہے، لیکن ایران نے بارہا یہ دکھا دیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کی بھرپور اور مضبوط طاقت رکھتا ہے۔

ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایجنسی نے ایران کے ساتھ ایمانداری اور شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود ہم تیار ہیں کہ بین الاقوامی اصولوں اور غیر جانبداری کے ساتھ تعاون کریں۔ البتہ ہم دوہرے معیار اور سیاسی کھیل کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔

News ID 1935164

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha