مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی ریزرو فوج کے کمانڈر جنرل عاموس گلعاد نے تل ابیب کی غزہ سے متعلق نئی فوجی حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ ان واقعات کی یاد دلاتا ہے جو 1982 میں لبنان میں رونما ہوئے جب اسرائیل نے وہاں ایک وفادار حکومت قائم کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔
عاموس گلعاد نے واضح کیا کہ اب وقت آچکا ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ کیا ہمیں سیاسی حل کی جانب جانا ہے یا ایک بار پھر غزہ کی دلدل میں غرق ہونا ہے، جیسا کہ ماضی میں لبنان میں ہوا۔
یاد رہے کہ روزنامہ العربی الجدید نے مصری ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے نئے منصوبے کے تحت 60 دن کی جنگ بندی کے دوران غزہ میں دوبارہ فوجی تعیناتی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ان ذرائع کے مطابق، یہ ایک انتہائی خطرناک اقدام ہے جو بین الاقوامی برادری کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کرسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ