وہ رسمِ عزا جسے قومی ورثے کا درجہ ملا

روایتی رسمِ عزا «دسترخوانِ برکت» کاشان کے مضافاتی شہر برزک میں منائی گئی۔ 

مہر خبر رساں ایجنسی؛ صوبائی ڈیسک: کاشان کے مضافات میں واقع شہر برزک میں ہر سال ایک قدیمی اور روایتی رسمِ عزا منائی جاتی ہے جسے «دسترخوانِ برکت» کہا جاتا ہے۔ اس روایتی رسمِ عزا میں مختلف قسم کے زرعی محصولات اور خشک میووں کا دسترخوان سجایا جاتا ہے جسے مخصوص آداب کے ساتھ مسجد و امام بارگاہ لے جایا جاتا ہے۔ 

رسمِ عزا کی باگ ڈور خواتین کے ہاتھوں میں ہوتی ہے جو ان خشک میوہ جات کو جسے وہ سال بھر کے دوران جمع کرتی ہیں، پیالوں میں بھرتی ہیں اور ان پیالوں کو طشت پر رکھ دیتی ہیں، پھر یہ طشت اپنے سروں پر اٹھا کر لاتی ہیں۔  

مسجد و امام بارگاہ پہنچنے پر خواتین کی جانب سے لائی گئی تمام چیزوں پر قرآن و دعا پڑھنے کے ساتھ مجلس و مصائب بھی پڑھے جاتے ہیں تا کہ اس س اگلے سال کے لئے برکت ہو۔ 

خاص بات یہ ہے کہ اس رسم عزا کو کچھ سال پہلے ملک کے غیر جسمی ثقافتی ورثے ﴿intangible cultural heritage﴾ میں شامل کر کے قومی ورثے کا درجہ دیا گیا ہے۔  

اس ویڈیو میں اس رسمِ عزا کے کچھ حصوں کو دکھا رہا ہے جسے فرہاد بابایی نے اپنے کیمرے سے ریکارڈ کیا ہے۔

News Code 1912023

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha