مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شریف فیملی کی جانب سے منی لانڈرنگ میں سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کی کمپنی کو بھی استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق سال 1998 میں اسحق ڈار کی کمپنی فرسٹ ہجویری مضاربہ کے ذریعے 11 کروڑ 16 لاکھ 70 ہزار منتقل کیے گئے، دبئی سے یہ رقوم چوہدری شوگر مل اور حمزہ بورڈ میں منتقل کی گئی۔
اسی طرح 24 مارچ 1998 کو اسحاق ڈارکی جانب سے 4 کروڑ 85 لاکھ ، 25 مارچ 1998 کو فرسٹ ہجویری مضاربہ کے اکاؤنٹ سے 2 کروڑ 21 لاکھ روپے، 26 مارچ 1998 کو 3 کروڑ 52 لاکھ منتقل کیے جبکہ یکم اپریل 1998 کو اسحاق ڈار نے چوہدری شوگر مل کو 5 کروڑ 87 لاکھ منتقل کئے۔
اسحاق ڈار نے ناصرف اپنی کمپنی بلکہ بے نامی اکاؤنٹس سے بھی کروڑوں روپے شریف فیملی کو منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کئے ، نیب کی اب تک کی تحقیقات اور مختلف بنکوں اور کمپنیوں کے ریکارڈ کی چھان بین کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ سابق وزیر خزانہ جو کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے سمدھی بھی ہیں نے شریف فیملی کو منی لانڈرنگ کے ذریعے 1 ارب سے زائد کی رقوم بھیجیں۔
آپ کا تبصرہ