صدی معاملے کی شکست کے آثار نمایاں ہوگئے ہیں

فلسطینی تنظیم حماس کے اعلی رکن محمود الزہار نے کہا ہے کہ صدی معاملہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، فلسطینی عوام اسے کسی صورت میں قبول نہیں کریں گےاور اس کی شکست کے آثار بھی نمایاں ہوگئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی تنظیم حماس کے اعلی رکن محمود الزہار نے کہا ہے کہ صدی معاملہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، فلسطینی عوام اسے کسی صورت میں قبول نہیں کریں گےاور اس کی شکست کے آثار بھی نمایاں ہوگئے ہیں۔

محمود الزہار نے مہر نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بعض عرب ممالک مسئلہ فلسطین اور بیت المقدس کے بارے میں تاریخی غداری اور خیانت کا ارتکاب کررہے ہیں جن میں سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

حماس کے اعلی رکن نے صدی معاملے کے خلاف اقدامات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام اور سیاسی تنظیمیں صدی معاملے کے خلاف ہیں اور کسی بھی طاقت کو فلسطینی سرزمین اور بیت المقدس کو فروخت کرنے عکی اجازت نہیں دی جائے گی۔ محمود الزہار نے کہا کہ بحرین کا اقتصادی اجلاس صدی معاملے کی ابتداء ہے اور امریکہ عربوں کے پیسے سے عربوں کی زمین خریدنے کی سازش کررہا ہے اور اس سلسلے میں امیرکہ کو سعودی عرب، بحرین اور امارت کی حمایت حاصل ہے اور عربی و اسلامی تاریخ کا یہ بہت بڑا المیہ ہے ۔کہ حرمین کے محافظ خود حرمین ، اسلام اور مسلمانوں کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب بین الاقوامی اداروں نے بھی صدی معاملے کی مخالفت شروع کردی ہے کیونکہ یہ منصوبہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

News Code 1891788

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 9 =