دفاعی توانائیوں اور صلاحیتوں میں اضافہ پر تاکید

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے عارضی خطیب نے ملکی دفاعی صلاحیتوں اور توانائیوں میں اضافہ کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی پیداوار سے ہی ملک و قوم کے تحفظ کو یقینی نبایا جاسکتا ہے بعض لوگ کافر اور دشمن کے زیر تسلط رہنے کو پسند کرتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت اللہ کاظم صدیقی کی امامت میں منعقد ہوئی جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی۔

نماز جمعہ کے عارضي خطیب نے ملکی دفاعی صلاحیتوں اور توانائیوں میں اضافہ کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی پیداوار سے ہی ملک و قوم  کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے جبکہ بعض لوگ کافر اور دشمن کے زیر تسلط رہنے کو پسند کرتے ہیں۔

خطیب جمعہ نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے وجود کو ملک و قوم اور عالم اسلام کے لئے برکت و رحمت کا باعث قراردیتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم ایک باپ کی طرح ملک کے مسائل پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر روز ان کی نورانیت میں اضافہ ہورہا ہے ان کی توجہ ملک دشمن عناصر پر مرکوز ہے جبکہ انھیں بعض داخلی مسائل سے صدمہ بھی پہنچ رہا ہے۔

صدیقی نے کہا کہ رہبر معظم نے ایک مرتبہ ثقافتی مشکلات کے بارے میں حکام کی توجہ مبذول کرتے ہوئےفرمایا کہ  "مجھے رات کو نیند نہیں آتی" ۔ آیت اللہ صدیقی نے کہا کہ بعض اسکولوں اور مدارس اور یونیورسٹیوں میں اساسی اور بنیادی انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ دشمن نے اس وقت ہمارے خلاف سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی محاذ پر جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ثقافتی محاذ پر دشمن کے حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دشمن ایران کو تسلیم کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے اور اگر ہم دشمن کے سامنے تسلیم ہوگئے تو عمر بھر تسلیم ہی رہیں گے۔

صدیقی نے کہا کہ وہ ممالک جو ہمیں دفاعی امور پر متوقف کرنا چاہتے ہیں وہ خود جدید ترین ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کررہے ہیں اور ہمیں روایتی ہتھیاروں کے تجربات سے بھی روکنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ ہمیں دشمن کی مکروہ اور معاندانہ سازشوں کے بارے میں ہوشیاررہنا چاہیے ۔ صدیقی نے کہا کہ جو لوگ دشمن خدا ہیں وہ کسی قانون اور آئین کے پابند نہیں ہیں اور ایسے لوگوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں بھی اپنی فوجی اور دفاعی توانائیوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔

News Code 1862980

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 3 =