ایران کو دفاعی طاقت بڑھانے کے لئے دوسروں کی اجازت اور تائید کی ضرورت نہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع جنرل حسین دھقان نے ایران کی دفاعی طاقت کے فروغ میں دوسروں کی اجازت اور تائید کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران مختلف شعبوں میں ترقی اور پیشرفت حاصل کرے البتہ ہمیں ملکی ترقی و پیشرفت کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع  جنرل حسین دھقان نے ایران کی دفاعی طاقت کے فروغ میں دوسروں کی اجازت اور تائید کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ  نہیں چاہتا کہ ایران مختلف شعبوں میں ترقی اور پیشرفت حاصل کرے البتہ ہمیں ملکی ترقی و پیشرفت کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔جنرل دھقان نے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے کبھی بھی کسی دوسرے ملک کے خلاف نہ حملہ کیا اور نہ ہی حملے کا ارادہ رکھتا ہے ایران کی دفاعی طاقت طرف اپنے دفاع کے لئے ہے اور ہر ملک کو اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کا حق حاصل ہے۔جنرل دھقان نے کہا کہ میزائلوں کے تجربات پہلے سے طے شدہ ہیں اور جدید ہتھیاروں کی آزمائش، فوجی تجربات اور فوجی مشقوں کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم غیر متعارف ہتھیاروں کی طرف نہ کبھی گئے ہیں اور نہ جائیں گے ہمیں اپنے دفاع کے لئے اللہ تعالی پر ایمان اور توکل کے ہمراہ  اپنے روایتی ہتھیار ہی کافی ہیں۔ جنرل دھقان نے امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی طرف سے ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں سکیورٹی کونسل کی طرف رجوع کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے میزائل تجربات گروپ 1+5 اور ایران کے مشترکہ اقدام کی خلاف ورزی نہیں ہیں لہذا مغربی ممالک کو سکیورٹی کونسل میں جانے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ ہماری پیشرفت اور ترقی کو روکنے کی ہرممکن کوشش کررہا ہے جس میں اسے شکست و ناکامی کا سامنا کرنا پڑےگا۔

News Code 1862944

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 7 =