درختوں پر چڑھنے سے ذہن تیز ہوتا ہے

ماہرین کے مطابق درختوں پر چڑھنے اور شاخوں پر خود کو متوازن رکھنے سے یادداشت اور دماغی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ماہرین کے مطابق درختوں پر چڑھنے اور شاخوں پر خود کو متوازن رکھنے سے یادداشت اور دماغی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔امریکی یونیورسٹی نے 18 سے 59 ایسے افراد کی معمول کی یادداشت کا جائزہ لیا جنہیں بتائے جانے والے نمبر الٹی ترتیب میں طے کرنے تھے ان میں سے بعض افراد کو رکاوٹیں عبور کرنے والی سرگرمیاں 2 گھنٹے تک کرائی گئی تھیں جن میں درختوں پر چڑھنا، ننگے پیر دوڑنا  اورر کاوٹیں عبور کرانا شامل تھا جب کہ دوسرے گروپ کو یوگا اور کچھ لیکچر دیئے گئے اور اس سے قبل ان دونوں گروہوں کو اس سے پہلے اور بعد میں یادداشت کے ایک ٹیسٹ سے گزارا گیا۔تحقیق کے مطابق نتائج کے تحت جو افراد درخت پر چڑھے اور رکاوٹیں عبور کیں صرف انہوں نے ہی یادداشت اور دماغی صلاحیت کے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ ماہرین کے مطابق درختوں پر چڑھ کر خود کو متوازن کرنے کا عمل پیروں ، بازوؤں اور پورے جسم کو ان دیکھے انداز میں سیدھا رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہےاور اسی طرح رینگ کر رکاوٹوں کے نیچے سے گزرنے کا عمل بھی فوری طور پر سوچنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہےکہ یوگا بھی جسمانی اعضا کو منظم رکھنے کا ایک عمل ہے لیکن اس میں انسان پرسکون انداز میں رہتا ہے اور کم کم حرکت کرتا ہے لیکن یوگا کرنے والے افراد میں کوئی خاص صلاحیت پیدا نہیں ہوئی۔ ماہرین کےمطابق اگر آپ اپنی یادداشت اور ذہنی صلاحیت بڑھانا چاہتے ہیں تو ننگے پیر چلیں، درختوں پر چڑھیں اور رکاوٹیں عبور کریں اس طرح ذہنی سرکٹ بہتر ہوگا اور مجموعی دماغی کیفیت اچھی اور بہتر ہوگی۔

News Code 1857135

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 7 =