14 اکتوبر، 2026، 7:22 AM

ایران کے پاس اسٹار لنک کنٹرول کرنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے، سیکرٹری آف سائبر اسپیس

ایران کے پاس اسٹار لنک کنٹرول کرنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے، سیکرٹری آف سائبر اسپیس

ایرانی سپریم کونسل برائے سائبر اسپیس کے سیکریٹری اور قومی مرکز برائے سائبر اسپیس کے سربراہ نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایران میں وی پی این کے فروغ پر اجلاس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس اسٹار لنک کنٹرول کرنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی سپریم کونسل برائے سائبر اسپیس کے سیکریٹری اور قومی مرکز برائے سائبر اسپیس کے سربراہ سید محمدامین آقامیری نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اسٹار لنک کے سیٹلائٹ ٹرمینلز کی مواصلاتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے متعدد ٹیکنالوجیز موجود ہیں اور اس ٹیکنالوجی کا انتظام اور مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسٹارلنک صرف مواصلاتی رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ جنگوں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول، ڈرونز کی رہنمائی، جاسوسی اور معلومات کی منتقلی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، روایتی خلل اندازی کے طریقے اس ٹیکنالوجی کے مقابلے کے لیے کافی نہیں، تاہم ایران نے اس حوالے سے دیگر ٹیکنالوجیز بھی تیار اور آزمائی ہیں، جن میں زمینی ٹرمینلز کی شناخت کے طریقے بھی شامل ہیں۔

آقامیری نے ایران میں وی پی این کے استعمال اور اس کے اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب سروے کے مطابق لوگوں کی اکثریت مفت وی پی این استعمال کرتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ان خدمات کے اخراجات کون برداشت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے 2023 میں وائٹ ہاؤس میں ایران میں ان وی پی این سروسز کو تقویت دینے کے لیے اجلاس منعقد کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت ایرانی عوام، ان کے کاروبار اور ملک کی تہذیب کے خیرخواہ نہیں ہیں اور اسٹارلنک کے فروغ کو محض تجارتی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ جب کوئی مواصلاتی نظام فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس کے قانونی اور سکیورٹی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔

ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اور محدودیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے قومی مرکز برائے سائبر اسپیس کے سربراہ نے کہا کہ سائبر اسپیس پر قومی حاکمیت کا مطلب انٹرنیٹ بند کرنا نہیں ہے۔ ملک کی پالیسی ہمیشہ عوام کو معیاری خدمات فراہم کرنا رہی ہے، تاہم جنگی اور سکیورٹی بحرانوں میں حالات مختلف ہو جاتے ہیں اور ایسے مواقع پر محدودیت کے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مکمل انٹرنیٹ بندش کو ممکنہ فیصلوں میں سب سے ناخوشگوار فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ دی ماہ میں چند گھنٹوں کے لیے انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کیا گیا تھا، جبکہ دیگر مواقع پر محدودیت نافذ کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بحران کے دوران نیٹ ورک کا انتظام تکنیکی اعتبار سے انتہائی دشوار ہوتا ہے، تاہم حکام کے نزدیک عوام کی جان، سلامتی اور سکون کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے انٹرنیٹ کی اندرونی خرابیوں اور خدمات کے معیار کے بارے میں کہا کہ قومی مرکز برائے سائبر اسپیس نیٹ ورک کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ مواصلاتی نیٹ ورک کے معیار کی ذمہ داری وزارتِ مواصلات اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ فلٹرنگ پالیسیوں کے نتائج پر سوالات اٹھنے کے بعد 32 نکاتی دستاویز تیار کی گئیں، جن کا مقصد پالیسیوں میں بہتری اور غیر ملکی پلیٹ فارمز تک رسائی میں سہولت پیدا کرنے سے متعلق اقدامات کرنا تھا۔ دستاویز کی درجہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ اسے اسی ہفتے شائع کر دیا جائے گا۔

آقامیری نے ڈیجیٹل مواد تیار کرنے والوں کے لیے آمدنی میں شراکت کے نظام کو بھی اہم قرار دیا۔ اگر اساتذہ، تعلیمی اداروں اور دیگر مواد تخلیق کرنے والوں کو ان کے تیار کردہ مواد سے پیدا ہونے والی انٹرنیٹ ٹریفک کے ذریعے آمدنی حاصل ہو تو اس سے ایک نئی صنعت تشکیل پا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ایرانی اور اسلامی شناخت، ثقافت اور تہذیب کو جدید ذرائع سے دنیا تک پہنچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی مرکز برائے سائبر اسپیس مختلف سرکاری اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور اختلافات کو قانونی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ اداروں کو اچھے اور برے کی فہرستوں میں تقسیم کرنے یا میڈیا میں تنازعات پیدا کرنے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

فرانس میں انٹرنیٹ کی بندش سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آقامیری نے کہا کہ ایران کے پاس قومی اطلاعاتی نیٹ ورک موجود ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی انٹرنیٹ منقطع ہونے کی صورت میں بھی اندرونی ادائیگیوں، تعلیمی خدمات اور مقامی سوشل نیٹ ورکس کا کام جاری رہ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر ملک کے لیے اپنا ڈیجیٹل نظام اور بنیادی ڈھانچہ رکھنا ضروری ہے، تاکہ وہ بیرونی پلیٹ فارمز پر مکمل انحصار سے بچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی انٹرنیٹ سے وابستہ بعض خدمات کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم قومی نیٹ ورک کی موجودگی ان اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

آقامیری نے آخر میں کہا کہ انٹرنیٹ سے متعلق بحرانی فیصلے اجتماعی طور پر کیے جاتے ہیں، جن میں بنیادی کردار سکیورٹی اداروں اور قومی سلامتی کونسل کا ہوتا ہے۔

News ID 1942090

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha