12 اکتوبر، 2026، 10:50 AM

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدی تشدد اور بھوک کا شکار

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدی تشدد اور بھوک کا شکار

اسرائیلی اخبار ہاآرٹز کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں نامناسب سلوک کی وجہ سے فلسطینی قیدیوں کے وزن میں کمی، طبی سہولتوں سے محرومی اور بیماریوں کے پھیلاؤ کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے کے مطابق، اسرائیلی اخبار ہاآرٹز نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں پر تشدد، انہیں بھوکا رکھنے، مارپیٹ کرنے اور طبی سہولتوں سے محروم رکھنے کا انکشاف کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں نے مجدو، نفحہ، کتسیعوت، عوفر اور دامون کی جیلوں سمیت حوارہ میں قائم ایک فوجی حراستی مرکز میں بدسلوکی اور غیر انسانی حالات میں قید رکھے جانے کی شکایات کی ہیں۔

رہا ہونے والے قیدیوں نے بتایا کہ ان کے جسمانی وزن میں 15 سے 50 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے اجتماعی سزاؤں، بار بار تذلیل، خارش کی بیماری کے پھیلاؤ اور علاج معالجے میں تاخیر کی بھی شکایت کی۔

ان سابق قیدیوں کے مطابق، غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کی حراستی صورت حال دیگر فلسطینی قیدیوں کے مقابلے میں بھی زیادہ خراب ہے۔

رپورٹ کے ایک اور حصے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جیل سروس نے ستمبر میں 9 ہزار 329 فلسطینیوں کو سکیورٹی قیدیوں کے عنوان سے حراست میں رکھا ہوا تھا۔

تحقیق کے مطابق، ان میں سے صرف 16 فیصد افراد کو اسرائیلی عدالتوں نے سزا سنائی تھی، جبکہ باقی مختلف زمروں میں شامل تھے۔ ان میں مقدمے کے منتظر قیدی، انتظامی حراست میں رکھے گئے افراد اور وہ فلسطینی شامل تھے جنہیں اسرائیلی حکومت غیر قانونی جنگجو قرار دیتی ہے۔

News ID 1942052

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha