6 اکتوبر، 2026، 1:29 PM

اسرائیل فلائی دبئی کے مسافر طیارے کو مار گرانے کے لیے تیار تھا، صہیونی ذرائع ابلاغ

اسرائیل فلائی دبئی کے مسافر طیارے کو مار گرانے کے لیے تیار تھا، صہیونی ذرائع ابلاغ

صہیونی ذرائع کے مطابق معاون پائلٹ کی جانب سے پائلٹ پر چاقو سے حملے اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کے بعد اسرائیل نے طیارے کو مار گرانے کی تیاری کرلی تھی، حالانکہ اس میں 150 سے زائد اسرائیلی مسافر سوار تھے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گذشتہ دنوں دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں پائلٹوں کے درمیان لڑائی کے بعد اسرائیل نے طیارے کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا تھا

تفصیلات کے مطابق فلائی دبئی کا ایک مسافر طیارہ گزشتہ ہفتے دبئی سے تل ابیب جا رہا تھا کہ مقبوضہ فلسطین کی فضائی حدود کے قریب پہنچنے کے دوران ایک خطرناک واقعے کا شکار ہوگیا۔ اس دوران معاون پائلٹ نے چاقو سے پائلٹ کو زخمی کیا اور طیارے کو گرانے کی کوشش کی۔

دو صہیونی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے ایک طریقہ کار طے کر رکھا ہے۔ طیارے کی بلندی میں تقریباً 14 ہزار فٹ کمی کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے کاک پٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس کے بعد ایک پہلے سے مقرر کردہ کمیٹی فوری طور پر تشکیل دی گئی اور کمانڈ سینٹر قائم کیا گیا۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے پرواز کی اور فضائی حدود بند کردی گئیں، تاہم جب معلوم ہوا کہ طیارے نے مقبوضہ فلسطین سے تقریباً 400 میل دور اپنا رخ تبدیل کرکے سعودی عرب کی جانب کرلیا ہے تو اسرائیل نے اپنے جنگی طیارے واپس بلا لیے، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے جنگی طیارے فضا میں بھیج دیے۔

طیارے کا پائلٹ کچھ دیر تک معاون پائلٹ کے خلاف مزاحمت کرنے میں کامیاب رہا اور کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد مسافروں اور فلائی دبئی کے عملے کے ایک گروپ نے معاون پائلٹ پر قابو پالیا۔ پرواز میں موجود دو غیر ملازم پائلٹوں نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتار لیا۔

صہیونی ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اگر پرواز 1073 اسرائیل سے ایک مخصوص فاصلے تک پہنچ جاتی تو اسرائیلی جنگی طیارے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوتے۔ جنگی طیاروں کے پائلٹ پہلے طیارے کے زیادہ سے زیادہ قریب جانے کی کوشش کرتے تاکہ کاک پٹ کا جائزہ لے سکیں اور بصری رابطے کے ذریعے پائلٹ کی صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکے۔

اس کے بعد مسافروں کے کیبن کا بھی جائزہ لیا جاتا اور اگر مسافروں میں خوف و ہراس کی علامات نظر آتیں تو اس کی اطلاع اسرائیلی فضائیہ اور پہلے سے مقرر کردہ کمیٹی کو دی جاتی۔

ذرائع کے مطابق اگر یہ واضح ہوجاتا کہ طیارہ ہائی جیک کیا گیا ہے، مشتبہ ہائی جیکرز نے ریڈیو کے ذریعے رابطہ نہیں کیا اور کوئی مطالبہ بھی پیش نہیں کیا تو مذکورہ کمیٹی اسرائیلی وزیر جنگ اور وزیراعظم کو صورت حال سے آگاہ کرتی تاکہ فیصلہ کیا جاسکے۔

اس طریقہ کار کے تحت اگر کوئی بے قابو مسافر طیارہ اسرائیل کی جانب بڑھ رہا ہو تو اسے مار گرانے کا امکان موجود ہے، تاہم ایسا حکم صرف اسرائیلی وزیراعظم جاری کرسکتا ہے۔

صہیونی ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایسے حالات میں اگر مسافر طیارے کے مقبوضہ فلسطین میں ازریلی ٹاورز، ہوائی اڈے یا دیگر اہم تنصیبات پر گرنے کا خطرہ موجود ہو تو طیارے کو مار گرانے کو سینکڑوں افراد کی ہلاکت سے بچنے کے لیے ترجیح دی جاسکتی ہے۔

ایک صہیونی عہدیدار نے بھی سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ پائلٹ پر حملے کے الزام میں گرفتار معاون پائلٹ نے متحدہ عرب امارات میں تفتیش کے دوران کہا کہ اس نے فلائی دبئی میں ملازمت حاصل کرنے سے پہلے ہی اس حملے کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔

News ID 1941906

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha