13 ستمبر، 2026، 8:35 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

یمنی فوج کی کامیابیاں؛ «واللہ أشد بأساً» آپریشن سے باب المندب میں طاقت کا نیا توازن قائم

یمنی فوج کی کامیابیاں؛ «واللہ أشد بأساً» آپریشن سے باب المندب میں طاقت کا نیا توازن قائم

مغربی ساحل پر یمنی مسلح افواج کے «واللہ أشدُّ بأساً وأشدُّ تنکیلاً» آپریشن کے بعد تعز اور الحدیدہ میں وسیع علاقوں پر کنٹرول، المخا بندرگاہ اور باب المندب پر قبضے کے بعد جنگ یمن کی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: یمنی مسلح افواج نے 3 ستمبر سے ملک کے مغربی ساحل میں «واللہ أشد بأساً وأشد تنکیلاً» کے نام سے ایک وسیع آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں جنگ یمن کی میدانی اور تزویراتی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

یمنی فوج نے اس آپریشن کے دوران تعز اور الحدیدہ کے وسیع علاقوں پر قبضہ، اہم بندرگاہ المخا کا کنٹرول اور یمنی فورسز نے باب المندب کی جانب پیش قدمی کی۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان جنرل یحیی سریع نے 11 ستمبر کو اعلان کیا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ فورسز تعز اور الحدیدہ کے 6 اضلاع سے نکلنے پر مجبور ہوئیں اور تقریباً 5400 مربع کلومیٹر علاقہ آزاد کرایا گیا۔

ان کے مطابق یمنی فورسز نے اس کارروائی میں 7 ڈویژنوں اور 38 فوجی بریگیڈز کو نشانہ بنایا، جبکہ مخالف جانب سے سینکڑوں افراد ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے۔ اس آپریشن کی اہمیت صرف زیر کنٹرول آنے والے علاقوں یا مخالف فورسز کے جانی نقصان تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ یمنی فورسز کی جغرافیائی پوزیشن باب المندب جیسے اہم بحری راستے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

باب المندب؛ خطرے سے تزویراتی دباؤ تک

باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی اہم آبنائے ہے اور اس کی جغرافیائی حیثیت عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ آپریشن کے دوران یمنی فورسز نے مغربی ساحل پر پیش قدمی کرتے ہوئے المخا کا کنٹرول سنبھالا اور ذباب کی جانب پیش قدمی کی۔

المخا کا سقوط؛ سعودی حمایت یافتہ فورسز کو بڑا دھچکا

المخا مغربی ساحل پر سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ فورسز کے لیے ایک اہم فوجی اور لاجسٹک مرکز تھا۔ اس بندرگاہ کا کنٹرول ہاتھ سے نکلنے سے ساحل احمر میں سعودی اتحاد کی حمایت یافتہ فورسز کے اہم مراکز میں سے ایک ختم ہوگیا ہے۔ المخا کے سقوط کو محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ مغربی ساحل میں سعودی اور اس کے اتحادیوں کے فوجی ڈھانچے کے لیے ایک اہم دھچکے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

6 اضلاع سے انخلا؛ جنگ کے جغرافیے میں تبدیلی

یمنی مسلح افواج کے مطابق سعودی حمایت یافتہ فورسز تعز اور الحدیدہ کے 6 اضلاع سے پیچھے ہٹ گئی ہیں، جن کا مجموعی رقبہ تقریباً 5400 مربع کلومیٹر بتایا گیا ہے۔

یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ کارروائی کسی ایک فوجی اڈے یا محدود علاقے تک نہیں رہی بلکہ تعز کے مغربی محاذ سے الحدیدہ کے ساحلی علاقوں تک ایک وسیع محور پر مرکوز رہی۔

سعودی حمایت یافتہ فوجی ڈھانچے کو نقصان

یحیی سریع کے مطابق آپریشن کے دوران 7 ڈویژنوں پر مشتمل 38 فوجی بریگیڈز کو نشانہ بنایا گیا اور مخالف جانب سے سینکڑوں افراد ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے۔ اس پیش رفت سے سعودی عرب کی جانب سے مقامی فورسز اور مسلح گروہوں کے ذریعے مغربی یمن میں اپنا اثر برقرار رکھنے کی حکمت عملی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

آپریشن کے دوران متعدد یمنی قیدیوں کی رہائی بھی عمل میں آئی۔ اس کامیابی کی اہمیت صرف انسانی پہلو تک محدود نہیں بلکہ رہا ہونے والے اہلکار دوبارہ یمنی فوجی ڈھانچے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ جنگ کے دوران قیدیوں کی رہائی فوجیوں کے حوصلے، تنظیمی یکجہتی اور جنگی یونٹوں کی دوبارہ تشکیل پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

سعودی-اماراتی منصوبے کو دھچکا

مغربی ساحل میں سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی کے باوجود المخا کا سقوط اور ساحلی علاقوں سے ان کا انخلا اس پورے فوجی ڈھانچے کے لیے ایک اہم دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ اس صورتحال سے یہ پیغام سامنے آتا ہے کہ بیرونی مالی، فوجی اور فضائی حمایت کسی فریق کے لیے میدان میں مستقل برتری کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے مزید امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاض یمن کی اس پیش رفت کو معمولی داخلی جھڑپ نہیں سمجھ رہا۔

جنگی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کا حصول

آپریشن کے دوران پسپا ہونے والی فورسز کے چھوڑے گئے فوجی سازوسامان کے حصول کو بھی ایک اہم کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ سعودی فوجی سازوسامان کا کچھ حصہ عقب نشینی کے دوران چھوڑ دیا گیا۔ اگر جدید ریڈار اور نگرانی کے نظام سے متعلق اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ یمنی فورسز کے لیے ایک اہم غیر علاقائی کامیابی ہوگی، کیونکہ جدید جنگ میں معلومات، نگرانی اور اہداف کی شناخت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

شمالی محاذ میں داخلی یکجہتی

یمنی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن میں عوام اور قبائل نے بھی وسیع پیمانے پر حصہ لیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارروائی صرف فوجی یونٹوں تک محدود نہیں رہی بلکہ متاثرہ علاقوں کی سماجی اور قبائلی قوت بھی اس کی حمایت میں متحرک ہوئی۔یہ صورتحال شمالی محاذ کی داخلی یکجہتی کو مضبوط بنانے اور فوجی کامیابی کو سیاسی و سماجی قوت میں تبدیل کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

باب المندب کی بڑھتی ہوئی اہمیت

باب المندب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور آگے عالمی بحری راستوں سے جوڑتا ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے مغربی ساحل میں یمنی فورسز کی پیش قدمی کو صرف جنگ یمن کا معاملہ نہیں سمجھا جا رہا بلکہ یہ بحیرہ احمر، توانائی، جہاز رانی اور علاقائی بازدارندگی کے وسیع تر توازن سے بھی جڑ گئی ہے۔

زمینی کامیابی سے جغرافیائی سیاسی دباؤ تک

3 ستمبر کا آپریشن یمنی مزاحمت کی زمینی، بحری اور سیاسی طاقت کے باہمی امتزاج کی صورت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ زمینی سطح پر مغربی ساحل میں پیش قدمی اور المخا پر قبضہ ہوا، جبکہ بحری سطح پر باب المندب کے قریب نئی پوزیشن حاصل ہوئی۔ اس پیش رفت نے سعودی عرب، امریکہ اور دیگر علاقائی قوتوں کی حکمت عملی کو بھی متاثر کیا ہے۔

7 کامیابیاں، جنہوں نے نئی مساوات قائم کی

مجموعی طور پر اس آپریشن کی 7 اہم کامیابیاں باب المندب کے قریب آپریشنل کنٹرول میں اضافہ، المخا کا سقوط، سعودی حمایت یافتہ فورسز کا 6 اضلاع سے انخلا، سعودی حمایت یافتہ فوجی ڈھانچے کو بڑا نقصان، متعدد یمنی قیدیوں کی رہائی، شمالی محاذ میں داخلی یکجہتی کا فروغ اور پسپا ہونے والی فورسز کے چھوڑے گئے فوجی سازوسامان کے حصول کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ 

سب سے اہم بات یہ ہے کہ انصار اللہ اب صرف یمن کے اندرونی علاقوں تک محدود قوت نہیں رہی بلکہ اس کی جغرافیائی پوزیشن براہ راست باب المندب، بحیرہ احمر، توانائی اور عالمی تجارت کے اہم راستوں سے جڑ گئی ہے۔ اگر یہ میدانی صورتحال برقرار رہتی ہے تو 3 ستمبر کا آپریشن جنگ یمن کے اہم موڑ کے طور پر سامنے آسکتا ہے، جہاں ایک زمینی کامیابی سعودی عرب اور اس کے بیرونی حامیوں کے خلاف تزویراتی دباؤ کے ایک نئے ذریعے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

News ID 1941333

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha