مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں کو قبل از وقت سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کے اصول بدل چکے ہیں اور اب ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب جلدی، سنگین اور زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔
انہوں نے ایرانی قوم کی مزاحمت کے حوالے سے کہا کہ ایرانی قوم کی مزاحمت اور اپنی طاقت و اقتدار کا تحفظ ایسے وقت میں جاری ہے جب ہم کفر کے پورے محاذ کے ساتھ ایک ہمہ گیر جنگ کے بیچ میں ہیں۔ ہماری مسلح افواج کی جانب سے امریکی اڈوں پر سنگین حملوں کے نتیجے میں اس ملک کے حکمران شدید بے بسی کا شکار ہو چکے ہیں اور کھوکھلے دعوؤں اور نعروں کے ذریعے میدانِ جنگ کی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہے ہیں۔
قالیباف نے مزید کہا کہ امریکی یقیناً سمجھ چکے ہیں کہ موزوں جواب دینے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ حالیہ کاروائیوں میں جارح دشمن کے اڈوں پر ہمارے سنگین حملے صرف ایک آغاز تھے۔ اگر وہ اب تک نہیں سمجھے تو انہیں قبل از وقت سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کے اصول بدل چکے ہیں۔ اب ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب بہت جلد، زیادہ سنگین اور زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔
قالیباف نے کہا کہ فوجی محاذ کے ساتھ ساتھ آج ہماری سب سے اہم جنگ پیداوار اور عوام کے معاشی حالات کے میدان میں ہے۔
انہوں نے دشمن کی طرف سے معاشی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جب دشمن پابندیوں میں شدت لا کر اشیاء کی فراہمی کے نظام اور توانائی کے انتظام کو مفلوج کرنا چاہتا ہے، ضروری ہے کہ درآمدات کے شعبے میں نئے اور دانشمندانہ انتظامی طریقۂ کار وضع کیے جائیں، ملکی پیداوار کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ماہرین و نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے، تاکہ غیر ملکی طاقتوں کے لالچ اور طمع کے مقابلے میں ایک مضبوط رکاوٹ کھڑی کی جا سکے۔
آپ کا تبصرہ