مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی دباؤ اور ناکہ بندی کا بوجھ خود واشنگٹن کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
مہر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ وہ اپنی فوجی طاقت اور بحری بیڑے کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے، تاہم حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ واشنگٹن کے اندازے حقیقت سے بہت دور تھے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طاقت کا ایک بڑا حصہ اپنی فوجی صلاحیتوں کے مظاہرے پر مبنی ہے۔ امریکی حکام نے یہ تصور کیا تھا کہ بحری بیڑے اور طیارہ بردار جہازوں کی محض موجودگی ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے گی، لیکن ان کے بقول امریکہ نے جتنا آگے بڑھنے کی کوشش کی، اسے اس کے مقابلے میں کئی قدم پیچھے ہٹنا پڑا۔
سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت قرار دیتا ہے، لیکن ایران کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے اپنی سنجیدہ حدود اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
حسین محبی نے امریکی اقتصادی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پہلے ہی بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور دوسری جانب چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی محاذ پر بھی مقابلے میں ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف اقتصادی جنگ میں کامیابی کا دعوی کس بنیاد پر کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال کا اقتصادی نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جائے تو موجودہ حالات سے امریکہ کو ہونے والا نقصان ایران کے نقصان سے کئی گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کو اقتصادی طور پر ایک ڈالر کا نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو ممکن ہے کہ اسے خود کئی ڈالر کے اخراجات اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے مزید کہا کہ خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت خام مال اور توانائی کی عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ امریکی تزویراتی ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ واشنگٹن کو اپنی بعض ضروری خام اشیا کی فراہمی کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی حالات کے باعث ایلومینیم کی پیداوار اور برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں اور خطے کے بعض ممالک میں پیداوار کی صلاحیت کا ایک حصہ عملی طور پر پیداوار کے عمل سے باہر ہوگیا ہے۔
حسین محبی نے کہا کہ ان تمام عوامل کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اقتصادی دباؤ ڈالنا اور کسی ملک کی ناکہ بندی کرنا لازماً پابندیاں عائد کرنے والے فریق کی فتح کا باعث نہیں بنتا، بلکہ اس کے نتیجے میں خود اسے بھی بھاری اقتصادی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ