مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے، تاہم ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں ایران خاموش نہیں بیٹھے گا اور جارحیت کرنے والوں کو طاقت اور عزم کے ساتھ فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر مسعود پزشکیان کرغیزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے چھبیسویں سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ روانگی کے موقع پر انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور خطے کے بیشتر ممالک کے سربراہان اس میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا ہے ایسے وقت میں جب بعض بین الاقوامی ادارے دنیا میں یک صدائی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس عالمی سطح پر مختلف اور آزاد آوازوں کی موجودگی کی علامت ہے۔
انہوں نے خطے کے ممالک کے درمیان تاریخی اور تہذیبی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے خطے میں رہتے ہیں جس کی تاریخ، تہذیب اور مشترکہ تقدیر ہزاروں سال پرانی ہے۔ خطے کے ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے، بقائے باہمی اور ترقی کے عمل میں شریک رہے ہیں۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ امن، سلامتی، معیشت اور تہذیب اسی خطے سے پروان چڑھی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آج کی دنیا میں بھی اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔
انہوں نے خطے کے امن، ترقی اور استحکام کو ایک دوسرے سے منسلک قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں تعمیری مذاکرات کے ذریعے یہ ثابت کیا جا سکے گا کہ خطے کے ممالک کے سربراہان خود اپنے خطے کے مسائل کو بہتر انداز میں حل اور منظم کرسکتے ہیں۔
ایرانی صدر نے جارحیت کرنے والوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا تاہم کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں ایران ہرگز خاموش نہیں رہے گا اور جارحیت کرنے والوں کو بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں تمام ممالک کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے تمام ممالک کو مل کر خطے کی سلامتی، اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
ایرانی صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے مثبت نتائج کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے بیشتر ممالک کے سربراہان کی شرکت اور اجلاس کے موقع پر ہونے والی دو طرفہ ملاقاتیں خطے کی سلامتی، اقتصادی تعاون اور سیاسی صورتحال میں بہتری کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس تمام شریک ممالک کے لیے مثبت اور مؤثر نتائج کا باعث بنے گا۔
آپ کا تبصرہ