مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ نیٹو اجلاس کے بعد اپنے حالیہ دورۂ ترکیہ کے دوران سکیورٹی کے ایک معتبر خطرے کے باعث انہوں نے خفیہ طور پر صدارتی طیارے ایئر فورس ون کو چھوڑ کر ایک دوسرے طیارے کے ذریعے اپنا سفر جاری رکھا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ ترکیہ میں قیام کے دوران ان کے مشیروں نے سکیورٹی خطرے کے پیش نظر انہیں دوسرے طیارے میں منتقل ہونے کا کہا، جس کے بعد انہوں نے خفیہ طور پر ایئر فورس ون سے دوسرے طیارے میں منتقلی کی۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ میں طیارہ تبدیل کرتے وقت انہوں نے امریکی خفیہ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کیا، کیونکہ ان کے بقول ایک مضبوط صدر کو بہت سے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
ٹرمپ نے واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے اس حوالے سے رپورٹ شائع کیے جانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت میں میرا خیال ہے کہ جس طیارے میں میں سوار ہوا، وہ زیادہ خطرے میں تھا، کیونکہ غالباً وہی طیارہ تھا جسے نشانہ بنانے کا ارادہ تھا۔
ٹرمپ نے ایران کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ مجھے ایران پر اعتماد نہیں ہے۔
میڈیا رپورٹس اور منظر عام پر آنے والی ویڈیوز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں نے ٹرمپ کے مرکزی طیارے پر ایران سے منسوب میزائل حملے کے خطرے سے متعلق اطلاع دی تھی اور انقرہ میں ٹرمپ کی طیارہ منتقلی کا غیر معمولی آپریشن صحافیوں کی نظروں سے دور، ایئرپورٹ کے ایک سروس ٹرک کے ذریعے انجام دیا گیا۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک سامان کی منتقلی اور ایئرپورٹ کے لیے کھانے کی فراہمی کرنے والے ٹرک کو ایک خفیہ آپریشن کے دوران ٹرمپ کو ایئر فورس ون سے دوسرے سرکاری طیارے میں منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق این اقدام گزشتہ ماہ ایران کی جانب سے لاحق ایک معتبر خطرے کے پیش نظر کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ متبادل طیارے کے ذریعے برطانیہ پہنچے اور بعد ازاں امریکہ واپسی کے سفر کے لیے انہیں دوبارہ صدارتی طیارے میں منتقل کردیا گیا۔
آپ کا تبصرہ