11 اگست، 2026، 6:52 PM

جنگ ایران سے نکلنے کے لیے خفیہ مذاکرات جاری، ٹرمپ کو فیصلہ سازی سے دور رکھا جا رہا ہے، روسی مصنف

جنگ ایران سے نکلنے کے لیے خفیہ مذاکرات جاری، ٹرمپ کو فیصلہ سازی سے دور رکھا جا رہا ہے، روسی مصنف

روسی مصنف مالک دوداکوف کے مطابق امریکی حکومت ایران کے خلاف جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے، جبکہ جنگ اور امن سے متعلق اہم فیصلوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار بتدریج محدود کیا جا رہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی مصنف اور امریکی امور کے تجزیہ کار مالک دوداکوف نے ایران کے مقابلے میں امریکا کی ناکامی کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ایران کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو محدود کرنے اور جنگ سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

دوداکوف کے مطابق امریکی حکومت ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے راستے تلاش کرنے میں شدت سے مصروف ہے، تاہم خود ٹرمپ کو اس عمل سے الگ رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ایران کے خلاف جنگ سے نکلنے کی کوششوں کے دوران امریکی انتظامیہ کے اندر فیصلہ سازی کا ایک غیر معمولی منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے۔ ٹرمپ کو جنگ اور امن جیسے بنیادی معاملات پر ہونے والی بحث سے بتدریج دور رکھا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی جانب سے نمائندگی کرنے والے جنرل ڈین کین کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے ہیں۔ ڈین کین نے مشرق وسطی میں موجودہ تعطل ختم کرنے کے لیے فوری طور پر امریکی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینے پر زور دیا ہے۔

دوداکوف کے مطابق جنرل ڈین کین نے اپنی پوزیشن اس حقیقت کی بنیاد پر قائم کی ہے کہ امریکہ ایران کو شکست دینے میں ناکام رہا ہے اور تہران امریکی شرائط قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کے لیے ایک اور اہم مسئلہ میزائلوں اور گولہ بارود کے ذخائر سے متعلق خدشات ہیں، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ تیزی سے ختم ہونے کے قریب ہیں۔

روسی مصنف نے دعوی کیا کہ جے ڈی وینس، مارکو روبیو اور جان ریٹکلف ابتدا ہی سے ایران پر حملے کے حوالے سے تحفظات رکھتے تھے، جبکہ وزیر جنگ پیٹ ہیگست اور صہیونی لابی کے نمائندے جنگ شروع کرنے کے حامی تھے اور انہوں نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائی شروع کرنے پر آمادہ کیا۔

دوداکوف کے مطابق ٹرمپ اب بھی روزانہ ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے ہیں، تاہم پس پردہ امریکی حکومت میں اس حوالے سے شدید بحث جاری ہے کہ موجودہ تعطل سے کیسے نکلا جائے اور ایسا راستہ کیسے اختیار کیا جائے جس سے امریکا کو جنگ سے باعزت طور پر نکلنے کا موقع مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے اصولی مؤقف نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ امریکا کے ساتھ محاذ آرائی کے نتیجے میں ایران خود کو پہلے سے زیادہ مضبوط محسوس کر رہا ہے۔

روسی مصنف نے کہا کہ تہران نے ایک مرتبہ پھر جنگی نقصانات کے ازالے، اپنے منجمد اثاثوں کی واپسی اور خلیج فارس سے امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کے مطابق آبنائے ہرمز بھی بدستور تقریبا بند ہے، جس کے باعث امریکی بحری جہاز اس اہم بحری راستے کو استعمال نہیں کرپا رہے۔ امریکی حکومت کے اندر اس معاملے پر ایک خطرناک کشمکش جنم لے رہی ہے اور ٹرمپ کے گرد موجود صورت حال سابق امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کے اندرونی اختلافات سے مشابہت اختیار کر رہی ہے۔

دوداکوف نے کہا کہ امریکا اس وقت ایک مشکل صورت حال میں پھنس چکا ہے اور واشنگٹن میں فیصلہ سازوں کے لیے دستیاب سیاسی و فوجی راستۂ کار بہت محدود رہ گیا ہے۔

ان کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے امریکا کے سامنے واضح شرائط رکھی ہیں اور تہران کا مؤقف ہے کہ امریکی رویے میں بنیادی تبدیلی کے بغیر آبنائے کو دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔

News ID 1940636

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha