مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک؛ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود واشنگٹن اپنے کسی بڑے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ مبصرین کے مطابق امریکہ اپنی خفت مٹانے کے لیے ایران کے خلاف زمینی کاروائی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران پر زمینی حملے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی طویل، مہنگی اور تباہ کن جنگ کا آغاز ہوگا جو ویتنام، عراق اور افغانستان سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہو سکتی ہے۔
اب تک کے حملوں کے ذریعے امریکہ نہ تو ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرسکا، نہ اس کی میزائل صلاحیت کو تباہ کر پایا، نہ حکومت کی تبدیلی کا ہدف حاصل ہوا اور نہ ہی مزاحمتی محاذ کو کمزور کیا جا سکا۔ اس کے نتیجے میں وہ جنگ، جسے مختصر مدت میں ایران کو پسپا کرنے کا ذریعہ سمجھا جا رہا تھا، اب امریکی سیاسی اور عسکری حکمت عملی کی ناکامی کی علامت بن چکی ہے۔
فضائی ناکامی کے بعد زمینی حملے کی بحث
فضائی حملوں، انٹیلی جنس کارروائیوں، ٹارگٹ کلنگ، تخریب کاری اور سیاسی و اقتصادی دباؤ کے باوجود جب امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا تو اب بعض جنگ پسند حلقے زمینی حملے کی حمایت کر رہے ہیں۔
اسرائیل، اس کے حامی لابیز، وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے بعض سخت گیر عناصر ایران کے خلاف جنگ کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں، تاہم زمینی حملہ سابقہ ناکامیوں کا ازالہ نہیں کرے گا بلکہ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں پھنسا دے گا جس سے نکلنا انتہائی مشکل ہوگا۔
ٹرمپ کے لیے ایک نیا اور خطرناک جوا
زمینی جنگ کا آپشن طاقت کی علامت نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ پہلے اختیار کیے گئے تمام ذرائع اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ داخلی جنگ پسند حلقوں اور اسرائیل نواز لابیوں کے دباؤ میں آ کر زمینی حملے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوں گے جہاں خطرات اور اخراجات پہلے سے کہیں زیادہ ہوں گے، جبکہ کامیابی کی کوئی واضح ضمانت موجود نہیں ہوگی۔
ایران کا جغرافیہ امریکی فوج کے لیے بڑا چیلنج
ایران کا وسیع رقبہ، بلند پہاڑی سلسلے، صحرائی علاقے، محدود گزرگاہیں، گنجان آباد شہر اور طویل فاصلے کسی بھی حملہ آور فوج کی پیش قدمی کو انتہائی مشکل بنا دیں گے۔
امریکی فوج کو مسلسل ایندھن، اسلحہ، خوراک، سازوسامان اور نفری کی فراہمی درکار ہوگی، لیکن جیسے جیسے فوج اندرونی علاقوں میں داخل ہوگی، سپلائی لائنز طویل اور غیر محفوظ ہوتی جائیں گی، جس سے فوج کا بڑا حصہ پیش قدمی کے بجائے اپنے راستوں اور زیر قبضہ علاقوں کے دفاع پر مجبور ہوگا۔
فضائی برتری بھی فیصلہ کن ثابت نہیں ہوگی
جدید جنگی ٹیکنالوجی اور فضائی برتری زمینی جنگ میں مکمل کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی، کیونکہ زمینی لڑائی میں علاقوں پر مسلسل کنٹرول، سپلائی لائنز کا تحفظ اور مستقل فوجی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔
ایران روایتی اور غیر روایتی دونوں طرز کی دفاعی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ جنگ کو طویل اور منتشر بناسکتا ہے، جس کے نتیجے میں حملہ آور فوج کو مسلسل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قومی اتحاد امریکی اندازوں کو غلط ثابت کرسکتا ہے
نتن یاہو اور موساد نے ٹرمپ کو سبز باغ دکھایا تھا کہ ایرانی عوام اس حکومت سے نالاں ہیں اور حملہ ہوتے ہی غیر ملکی فوج کا استقبال کریں گے۔ گذشتہ دو جنگوں کے دوران اس کے بالکل برعکس حقیقت سامنے آئی۔ آئندہ بھی یہ تصور غلط ثابت ہوگا کہ ایرانی عوام بیرونی فوج کا خیر مقدم کریں گے۔ بیرونی حملہ ملک کے اندر موجود سیاسی اختلافات کو پس منظر میں دھکیل دے گا اور مختلف طبقات کو ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد کردے گا۔
ایران کو کلاسیکی جنگ میں امریکہ کو شکست دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف اتنا کافی ہوگا کہ وہ امریکہ کو فوری، کم خرچ اور سیاسی طور پر قابل قبول کامیابی حاصل نہ کرنے دے۔
ویتنام، عراق اور افغانستان سے بھی بڑا دلدل
ویتنام، عراق اور افغانستان میں بھی امریکہ نے اپنی عسکری برتری کے باوجود پائیدار سیاسی کامیابی حاصل نہیں کی۔ حکومتیں گرائی گئیں، مگر مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہ ہو سکے اور بالآخر امریکہ کو بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد ان جنگوں سے نکلنا پڑا۔
ایران اپنے رقبے، آبادی، منظم حکومتی ڈھانچے، مضبوط مسلح افواج، میزائل اور ڈرون صلاحیت اور خطے میں اپنی اہم جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے ان تمام ممالک سے مختلف ہے، اس لیے یہاں زمینی جنگ کے نتائج امریکہ کے لیے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تباہ کن ہوسکتے ہیں۔
جنگ کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں
ایران پر زمینی حملہ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈی، امریکی فوجی اڈوں، علاقائی اتحادیوں اور پورے مشرق وسطی تک پھیل سکتے ہیں۔ جیسے جیسے جنگ طول پکڑے گی، امریکی جانی نقصان، مالی اخراجات، داخلی سیاسی دباؤ اور عوامی احتجاج میں اضافہ ہوگا، جبکہ حکومت کے لیے جنگ جاری رکھنے کا جواز پیش کرنا مزید مشکل بنتا جائے گا۔
حاصل سخن
ایران پر امریکی زمینی حملہ کوئی معمولی فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسی اسٹریٹجک غلطی ثابت ہوسکتا ہے جو امریکہ کو ایک طویل، مہنگی اور تباہ کن جنگ میں دھکیل دے۔ ایسی جنگ کا آغاز شاید آسان ہو، لیکن اس کا خاتمہ واشنگٹن کے اختیار میں نہیں ہوگا، اور یہ امریکہ کے لیے ویتنام، عراق اور افغانستان سے بھی زیادہ گہرا دلدل بن سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ