مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: حالیہ ہفتوں میں امریکی حکام نے ایک بار پھر ایران کے خلاف دھمکی آمیز بیانات، دباؤ اور عسکری انتباہات کا سہارا لیا ہے، یہ کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے آزمائی جانے والی اسی پالیسی کا تسلسل ہے جو اب تک اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مختلف امریکی حکومتوں نے فوجی دھمکیوں، اقتصادی پابندیوں، نفسیاتی جنگ اور سیاسی دباؤ کے ذریعے ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی، مگر نتائج ہمیشہ واشنگٹن کی توقعات کے برعکس سامنے آئے۔
دباؤ کی پالیسی بار بار ناکام
ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی واشنگٹن نے فوجی دھمکیوں یا اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو جھکانے کی کوشش کی، اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بیرونی دباؤ نے ایران کو کمزور کرنے کے بجائے متعدد مواقع پر داخلی اتحاد، ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور قومی عزم کو مزید مضبوط کیا۔ ایران۔عراق جنگ سے لے کر سخت ترین اقتصادی پابندیوں، امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی، "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی اور حالیہ فوجی کشیدگی تک، ہر مرحلے پر امریکہ نے یہ اندازہ لگایا کہ دباؤ بڑھانے سے ایران اس کے مطالبات تسلیم کر لے گا، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔
دھمکی امریکی خارجہ پالیسی کا مستقل ہتھیار
ایران کے خلاف دھمکی امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مستقل حصہ رہی ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کی حکومتوں نے مختلف انداز میں فوجی دھمکی، اقتصادی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور نفسیاتی جنگ کو ایران پر اثر انداز ہونے کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا۔
سوال یہ ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود یہ پالیسی کیوں دہرائی جا رہی ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ امریکی فیصلہ سازی کا وہ حلقہ ہے جو اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ دباؤ میں مزید اضافہ ایران کو اپنے مؤقف میں تبدیلی پر مجبور کر سکتا ہے، حالانکہ عملی تجربات اس تصور کی تردید کرتے ہیں۔ امریکہ کی بڑی اسٹریٹجک غلطی یہ رہی کہ اس نے ایران کے سیاسی و ریاستی ڈھانچے اور بیرونی دباؤ سے نمٹنے کے طریقہ کار کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ امریکی تجزیہ کار اکثر یہ سمجھتے رہے کہ اقتصادی مشکلات اور عسکری دھمکیاں داخلی اختلافات کو بڑھا دیں گی، مگر ہر بار بیرونی خطرات کے دوران قومی سلامتی کا معاملہ ایران میں اتحاد کا سبب بنا اور مزاحمت مزید مضبوط ہوئی۔
حالیہ کشیدگی میں بھی وہی منظرنامہ
حالیہ مہینوں میں امریکی حکام کے سخت بیانات کے ساتھ ایران نے بارہا واضح کیا ہے کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب حالات کے مطابق متناسب اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔ یہ مؤقف ایران کی فعال دفاعی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد مخالف فریق کو کسی بھی غلط اندازے سے روکنا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے اندر بھی ایران سے متعلق پالیسی پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ متعدد سلامتی ماہرین اور سابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ مسلسل کشیدگی نہ صرف امریکی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی بلکہ اس نے امریکہ پر اضافی سیاسی، عسکری اور اقتصادی اخراجات بھی مسلط کیے ہیں۔
دفاعی صلاحیت نے امریکی حساب بدل دیے
ایران کی دفاعی، میزائل، ڈرون اور بحری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ امریکی دھمکیوں کی مؤثریت کم ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اب واشنگٹن کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے اس کے ممکنہ سیاسی، اقتصادی اور سلامتی سے متعلق نتائج کا تفصیلی جائزہ لینے پر مجبور ہے۔
اس کے ساتھ ایران کی جغرافیائی اہمیت بھی ایک فیصلہ کن عنصر ہے۔ حساس خطے میں واقع ہونے اور عالمی توانائی کی اہم گزرگاہوں کے قریب ہونے کی وجہ سے ایران کے خلاف کسی بھی بحران کے اثرات پورے خطے بلکہ عالمی سطح تک پھیل سکتے ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی برادری بھی کشیدگی میں اضافے سے گریز کی خواہاں رہتی ہے۔
نفسیاتی جنگ بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام
امریکی حکمت عملی صرف فوجی دھمکیوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا اہم حصہ میڈیا اور نفسیاتی جنگ بھی ہے، جس کا مقصد ایران میں خوف، بے یقینی اور دباؤ کی فضا پیدا کرنا ہے۔ تاہم گزشتہ برسوں کے تجربات کے باعث ایرانی عوام اس نوعیت کی مہم جوئیوں سے بڑی حد تک آشنا ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی مؤثریت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مسلسل ایسی دھمکیاں جو عملی کارروائی میں تبدیل نہ ہوں، وقت کے ساتھ اپنی ساکھ بھی کھو دیتی ہیں۔
امریکہ یہی پالیسی کیوں دہراتا ہے؟
اس پالیسی کے تسلسل کی ایک وجہ امریکی داخلی سیاست بھی ہے۔ کئی مواقع پر ایران کے خلاف سخت بیانات کا مقصد تہران پر دباؤ ڈالنے سے زیادہ امریکی عوام، سیاسی مخالفین اور علاقائی اتحادیوں کو مطمئن کرنا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ کے پاس دباؤ کی پالیسی کا کوئی مؤثر متبادل بھی موجود نہیں۔ فوجی کارروائی کو مہنگا اور خطرناک سمجھا جاتا ہے، جبکہ پابندیاں بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں، اس لیے بعض امریکی سیاست دان اب بھی اسی پرانی حکمت عملی کو دہرا رہے ہیں۔
خطے کے بدلتے حالات اور مستقبل
رپورٹ کے مطابق مغربی ایشیا کی تزویراتی صورتحال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر تبدیل ہوچکی ہے اور امریکہ سمیت تمام علاقائی و عالمی طاقتوں کو ان نئی حقیقتوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ ایران نے بارہا واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ کے تحت پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور ہر جارحانہ اقدام کا حالات کے مطابق متناسب جواب دے گا۔ ایسے میں صرف دھمکیوں پر مبنی پالیسی نہ تو ایران کے رویے میں تبدیلی لا سکتی ہے اور نہ ہی امریکہ کے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرسکتی ہے۔
واشنگٹن کی حالیہ دھمکی آمیز حکمت عملی دراصل ایک پرانے اور بارہا ناکام ہو چکے طرز عمل کا تسلسل ہے۔ تاریخی تجربات کے مطابق یہ پالیسی نہ ایران کو اپنے قومی مفادات کے تعاقب سے روک سکی ہے اور نہ ہی امریکہ کو اس کے مطلوبہ نتائج دلاسکی ہے، لہذا جب تک امریکی حکمت عملی دھمکی، دباؤ اور خوف پر مبنی رہے گی، ماضی سے مختلف نتائج کی توقع بھی مشکل دکھائی دیتی ہے۔
آپ کا تبصرہ