مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے خطیب جمعہ حجت الاسلام والمسلمین حاج علی اکبری نے کہا ہے کہ امامِ شہید کے خون کا انتقام امریکی افواج کے خطے سے مکمل انخلا، اسرائیل کے خاتمے اور امریکہ کی عالمی بالادستی کے اختتام تک جاری رہے گا، جبکہ آبنائے ہرمز آئندہ بھی ایران کے کنٹرول اور انتظام میں رہے گی۔
جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شہید امام خامنہ ای کی تشییع میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کو انقلابِ اسلامی اور ایرانی قیادت سے تجدیدِ عہد قرار دیا۔ کئی ملین افراد نے مختلف شہروں میں شرکت کرکے محبت، وفاداری اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے "یا لثارات" کے پرچموں کے ساتھ شرکت اس بات کی علامت ہے کہ شہداء کے خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ یہ مطالبہ صرف جذباتی نہیں بلکہ مذہبی، قانونی اور عقلی بنیادوں پر استوار ہے، اور رہبر معظم آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے بھی اپنے پیغام میں اس عوامی مطالبے کی تائید کی ہے۔
حجت الاسلام حاج علی اکبری نے کہا کہ انتقام کے عمل کے چار بنیادی مراحل ہیں۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں ان تمام افراد کو سزا دینا شامل ہے جنہیں ایران اس واقعے کا ذمہ دار سمجھتا ہے، خواہ وہ منصوبہ ساز ہوں، حملہ آور ہوں یا معاون۔ دوسرے مرحلے میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا اور امریکی افواج کو مکمل طور پر خطے سے نکالنا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیسرے مرحلے کا مقصد اسرائیل کا خاتمہ اور مسجد اقصی کی آزادی ہے، جبکہ چوتھا مرحلہ امریکہ کی عالمی طاقت کے طور پر حیثیت کا خاتمہ ہے۔ یہ تمام مراحل شروع ہو چکے ہیں اور وقت کے ساتھ مکمل ہوں گے۔
خطیبِ جمعہ نے امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کے جنوبی علاقوں میں فوجی مراکز، اسپتالوں، پلوں، بنیادی ڈھانچے، ماحولیاتی تنصیبات اور ماہی گیری کے مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے امریکی اڈوں پر حملے کیے اور نئے اہداف کو بھی اپنی کارروائیوں میں شامل کیا۔
انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکہ پر انحصار ختم کرکے اپنی خودمختاری کو مضبوط بنائیں اور موجودہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آزاد خارجہ پالیسی اختیار کریں۔
حاج علی اکبری نے خوزستان، بوشہر، ہرمزگان اور خلیج فارس کے جزیروں کے عوام کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری ایرانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کے لیے ایک اہم تزویراتی اور اقتصادی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ قومی سلامتی، معیشت، مزاحمتی محاذ کی حمایت اور قومی مفادات کے تحفظ میں کلیدی کردار رکھتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی کے بعد مذاکرات کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور اب دونوں ممالک کے تعلقات کا تعین ایران کی عسکری طاقت کی بنیاد پر ہوگا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا مکمل تحفظ کرے گا، یہ آبی گزرگاہ ایران کی نگرانی اور انتظام میں رہے گی، اور اسے کسی صورت ماضی کی حالت کی طرف واپس نہیں جانے دیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ