مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو خلیج فارس کے بحران سے متعلق تمام فریقوں سے رابطے میں ہے اور وہ فوری جنگ بندی کے حصول کے لیے کوششوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔
لاوروف نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران بحری جہازوں کی آمدورفت، بین الاقوامی نقل و حمل اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس، ایران، آذربائیجان اور روس کے درمیان ریلوے رابطہ قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد خطے کے آبی راستوں میں موجود کشیدگی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔
روسی وزیر خارجہ کے مطابق موجودہ صورتحال نے روس، خلیجی خطے اور بحر ہند کے درمیان ایران اور آذربائیجان کے راستے شمالی–جنوبی کوریڈور کی اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
لاوروف نے کہا کہ روس آبنائے ہرمز میں جنگ سے پہلے کی صورتحال کی بحالی اور فوری جنگ بندی کا خواہاں ہے۔
انہوں نے ماسکو کے اس منصوبے پر بھی زور دیا جس کے تحت خلیج فارس کے ممالک اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں اردن، عراق اور عرب لیگ کے رکن ممالک چین، مصر اور پاکستان کی حمایت کے ساتھ شامل ہیں۔
لاوروف نے کہا کہ ایران نے بھی مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم بعض فریق ایران اور ان ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے عمل کو ناکام بنانے اور تہران کے خلاف ایک وسیع محاذ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ نے انصار اللہ کی جانب سے باب المندب آبنائے بند کرنے کی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو اس کے اثرات بحیرہ احمر تک پھیل سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں صرف تیل کی ترسیل ہی نہیں بلکہ عالمی تجارت بھی مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔
لاوروف نے مزید کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ بحال کرنے کا خواہاں ہے، جو ایران کے خلاف حملے سے قبل معمول کے مطابق جاری تھی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس بحران کے نقصانات صرف براہ راست فریقین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیج فارس تعاون کونسل کے وہ ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
روسی وزیر خارجہ نے اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان اور شام میں اپنی خواہشات مسلط کرنے کے انداز میں کارروائیاں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ