مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، صہیونی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کا امریکا کا دورہ صرف سینیٹر لنڈسی گراہم کی تقریب ملتوی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکی حکومت کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات کے باعث بھی مؤخر کیا گیا ہے۔
صہیونی ویب سائٹ وائی نیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ خاص طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے اسرائیلی حکومت پر کی جانے والی سخت تنقید نے دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وینس کے ان بیانات، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل امریکی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے اور واشنگٹن کو دوبارہ جنگوں کی طرف لے جا سکتا ہے، کے بعد نتن یاہو کا موجودہ حالات میں امریکا کا دورہ ایک ایسی صورتحال پیدا کر سکتا تھا جہاں انہیں کھلے عام تنقید کا سامنا کرنا پڑتا۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے باضابطہ طور پر ٹرمپ اور نتن یاہو کے درمیان ملاقات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تھا، تاہم اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات پیر کے روز متوقع تھی۔
رپورٹ کے مطابق، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی انتخابات سے چند ماہ قبل نتن یاہو ایسے وقت میں وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جب یہ ملاقات ان کے لیے عوامی تنقید کا باعث بن سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ