مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب ایروانی نے اپنے خط میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے مختلف علاقوں، بالخصوص جنوبی صوبوں، ساحلی شہروں اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز کے اطراف واقع بندرگاہوں پر متعدد حملے کیے۔ ان حملوں میں بندرعباس، بوشہر، اہواز، چابہار، کنارک، جاسک، سیریک، ایرانشہر، ابو موسیٰ اور تنبِ بزرگ سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
خط میں مزید کہا گیا کہ حالیہ حملوں میں شیراز، خرم آباد، سمنان، ارومیہ اور ہمدان بھی متاثر ہوئے، جبکہ بندرگاہوں، مواصلاتی نظام، ریڈار تنصیبات، لاجسٹک مراکز اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ ان حملوں میں 35 سے زائد افراد شہید اور 260 سے زیادہ زخمی ہوئے، جن میں شہری، امدادی کارکن، فائر فائٹرز، ماحولیات کے اہلکار اور ماہی گیر بھی شامل ہیں۔
ایرانی مندوب نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں، مبینہ خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائیں۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ کے حملے سویلین اور شہری تنصیبات پر امریکی حملے جنگی جرائم شمار ہوتے ہیں اور ایران بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع اور قانونی چارہ جوئی کے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
آپ کا تبصرہ