مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکہ میں بڑھتے ہوئے غذائی بحران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خود بھوک کے مسئلے کے حل کے لیے احسان اور خیرات کا محتاج ہے۔
انہوں نے "ورلڈ ہنگر ایجوکیشن سروس" کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد، جن میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ بھی شامل ہے، صحت مند زندگی کے لیے ضروری غذا سے محروم ہیں، جبکہ 2020 سے اب تک غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی تعداد میں 42 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ "فیڈنگ امریکہ" کی رپورٹ کے مطابق بھی تقریباً 4 کروڑ 70 لاکھ امریکی غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں اور روزانہ بھوک کے ساتھ اس کے صحت اور معاشرتی اثرات بھی برداشت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی محکمۂ زراعت نے ستمبر 2024 سے تقریباً 30 سال سے جاری غذائی عدم تحفظ سے متعلق سالانہ رپورٹ کی اشاعت خاموشی سے بند کر دی، جس سے ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے امریکہ میں بھوک کا مسئلہ ختم ہو گیا ہو، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
آپ کا تبصرہ