مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ اور خلیج فارس تعاون کونسل (PGCC) کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مداخلت پر مبنی، غیرذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس مشترکہ اعلامیے میں اختیار کیے گئے موقف کو مداخلت پر مبنی، غیرذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز سمجھتا ہے اور خطے میں ایسی پالیسیوں کے تسلسل کے خلاف خبردار کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خلیج فارس کے ممالک کی سلامتی کے لیے امریکہ کے مسلسل عزم کا دعوی محض حقیقت کو مسخ کرنے اور کھوکھلے نعروں پر مبنی ہے، کیونکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی عوام پر بوجھ بن چکی ہے اور عدم استحکام اور تقسیم کا باعث بنی ہے۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ 28 فروری سے 8 اپریل 2026 کے دوران ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں میں خطے کے بعض ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کا استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ واشنگٹن نہ تو علاقائی سلامتی کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی دوطرفہ تعلقات کا۔
ایران نے ان علاقائی ممالک پر بھی زور دیا جن کی سرزمین اور سہولیات حالیہ مسلط کردہ جنگ میں استعمال ہوئیں کہ وہ اپنے موقف پر نظرثانی کریں۔ ساتھ ہی اس نے یاد دلایا کہ بین الاقوامی قانون اور حسن ہمسائیگی کے اصولوں کے تحت خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ کسی تیسرے فریق کو اپنی سرزمین یا سہولیات ایران کے خلاف غیرقانونی اقدامات، خصوصاً فوجی جارحیت، کے لیے استعمال نہ کرنے دیں۔
وزارت خارجہ نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور سلامتی صرف علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد سازی، باہمی تعاون اور غیرملکی مداخلت کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ ایران کو خطے کے لیے خطرہ قرار دینے کے دعووں کو اس نے سیاسی مقاصد کے لیے گھڑا گیا بیانیہ قرار دیا۔
بیان میں ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو خطرہ قرار دینے کی کوششوں کی بھی سخت مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ امریکہ کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی نے خطے کو ایک خطرناک اور نہ ختم ہونے والی اسلحہ کی دوڑ میں دھکیل دیا ہے۔
وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ پر کسی قسم کا ادنی ترین سمجھوتہ بھی قبول نہیں کرے گا۔
بیان میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ خلیج فارس تعاون کونسل نے امریکہ اور اسرائیل کے موقف کی تائید کرتے ہوئے فلسطینی اور لبنانی مزاحمتی تحریکوں کو ایران کے پراکسی قرار دیا، جبکہ ایران کے مطابق خطے میں واحد پراکسی صہیونی حکومت ہے۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی بدامنی کی براہ راست ذمہ داری امریکہ، اسرائیل اور ان علاقائی ممالک پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے حالیہ امریکی۔اسرائیلی جارحیت کی حمایت کی۔ بیان میں زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 5 اس آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کے انتظام کی عملی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
بیان کے اختتام پر ایران نے خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ حالیہ جنگ کے تناظر میں اپنی سلامتی کی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، کیونکہ اجتماعی سلامتی صرف علاقائی ممالک کے باہمی تعاون اور غیرملکی مداخلت کے خاتمے سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ