11 مئی، 2026، 3:14 PM

نیتن یاہو نے لبنان میں حملے کیوں تیز کیے؟ اصل وجہ سامنے آگئی

نیتن یاہو نے لبنان میں حملے کیوں تیز کیے؟ اصل وجہ سامنے آگئی

اسرائیلی فوج نے ایسے وقت میں لبنان پر حملے تیز کر دیے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بیروت سے متعلق براہ راست مذاکرات کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور میزائل کارروائیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب خطے میں کشیدگی کے پھیلنے اور امریکہ و ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات پر اس کے اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں اور دھمکی دی ہے کہ وہ شمالی محاذ پر اپنے بقول فیصلہ کن فتح حاصل کرنے کے لیے جنگ کا دائرہ وسیع کرے گی۔

رام اللہ میں الجزیرہ کے بیورو چیف ولید العمری نے حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر احمد بلوط کی بیروت میں شہادت کے اسرائیلی دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ایک خطرناک موڑ ثابت ہوئے، جن کے بعد جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ان حملوں کے ذریعے واشنگٹن میں آئندہ مذاکراتی دور سے پہلے زمینی حقائق اپنے حق میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق تل ابیب کو اس بات پر تشویش ہے کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ گیا تو لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں محدود ہو سکتی ہیں۔

ولید العمری نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کو یہ خوف بھی لاحق ہے کہ اگر جنگ حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر ختم ہو گئی تو اس کے سیاسی مستقبل اور آئندہ انتخابات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں دیہاتوں کی تباہی کا دائرہ وسیع کرنا اور یلو لائن کو دریائے لیتانی سے آگے تک بڑھانا شامل ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد آئندہ مذاکرات میں اسرائیل کے حق میں زمینی پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔

بڑھتا ہوا غصہ

الجزیرہ کے بیورو چیف نے کہا کہ نیتن یاہو داخلی انتخابات اور ذاتی سیاسی مفادات کی وجہ سے جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی حلقے لبنان، غزہ، یمن اور ایران کے محاذوں کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر حزب اللہ اور حماس کو غیر مسلح کیے بغیر جنگ ختم ہو گئی تو اسے سیاسی اور فوجی شکست تصور کیا جائے گا۔

ولید العمری نے ایران سے متعلق جنگی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تل ابیب دوبارہ ایران پر حملوں اور اس کی تیل تنصیبات اور اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی طرف جانا چاہتا ہے تاکہ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل نہ ہو سکیں۔

News ID 1939230

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha