11 مئی، 2026، 3:12 PM

عرب ممالک میں شہریت کی منسوخی اور غیر ملکیوں کی جبری بے دخلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، ایران

عرب ممالک میں شہریت کی منسوخی اور غیر ملکیوں کی جبری بے دخلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، ایران

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بحرین اور امارات میں شہریت کہ منسوخی اور غیر ملکیوں کی جبری بے دخلی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے بعض ممالک میں اپنے شہریوں کی شہریت منسوخ اور غیر ملکیوں کو جبری بے دخل کیا جارہا ہے۔ یہ اقدامات انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہیں اور ایران اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں امارات کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کے خلاف اقدامات اور اس معاملے پر ایران کے ردعمل کے بارے میں کہا کہ پاکستان یقینا اپنے معاملات کو پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھائے گا اور کوئی بھی ثالث ایسی پیشہ ورانہ کارروائیوں کو تیسرے فریق کے اثرات کے تحت نہیں آنے دے گا۔

انہوں نے کہا کہ امارات کی جانب سے دیگر ممالک کے شہریوں کے خلاف اقدامات انسانی حقوق کے معیار کے خلاف ہیں اور تہران میں وزارت خارجہ کا قونصلر شعبہ اس معاملے کی پیروی کررہا ہے۔

یاد رہے کہ چالیس روزہ جنگ کے بعد عرب امارات کی حکومت نے مذہبی بنیادوں پر کاروائی کرتے ہوئے پاکستان سمیت مختلف ممالک کے شہریوں کو ملک سے جبری بے دخل کرنا شروع کیا ہے جس پر سوشل میڈیا میں امارات پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بحرین نے گزشتہ دو ماہ کے دوران ایسے افراد کے خلاف اقدامات کیے جن پر ایران سے ہمدردی کا الزام تھا، جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہریت کی منسوخی قرون وسطی کی ایک سزا ہے جو برسوں پہلے متروک ہوچکی ہے اور یہ بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔

بقائی نے مزید کہا کہ ایران انسانی وقار کے احترام کے اصول کے تحت اپنا مؤقف واضح طور پر بیان کرچکا ہے اور بحرین کے یہ اقدامات انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔

بقائی نے خطے میں بعض یورپی ممالک کی جانب سے جنگی جہاز بھیجنے کے حوالے سے کہا کہ ایران نے یورپی ممالک کو واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ وہ امریکہ اور صہیونی حکومت کے دباؤ یا ترغیب میں آکر کسی ایسے بحران کا حصہ نہ بنیں جس کا کوئی فائدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک اس بات سے آگاہ ہیں کہ یہ جنگ غیر قانونی ہے اور انہیں چاہیے کہ امریکہ کے دباؤ کے باوجود کم از کم کھلے طور پر ایسے اقدامات کا حصہ نہ بنیں جو عالمی امن اور سلامتی کے خلاف ہوں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ جو بھی ملک عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ رکھتا ہے اسے دباؤ اس فریق پر ڈالنا چاہیے جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں خلل پیدا ہوا۔

News ID 1939237

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha