مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار کے مطابق جنوبی لبنان میں جاری جنگ میں تل ابیب کو نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تل ابیب کے لیے بدترین منظرنامہ ثابت ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کی تشویش ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کو مکمل طور پر حل کیے بغیر تہران پر دباؤ کم کر دے گا اور اس کے نتیجے میں ایران کو تقویت ملے گی۔
اخبار کے مطابق ایران کی قومی فٹبال ٹیم کی امریکہ میں ہونے والے عالمی کپ میں شرکت کے اعلان کو بھی بعض حلقے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی جتنی طویل ہوتی جارہی ہے اتنا ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ میں دوبارہ شامل ہونے کی خواہش کم ہوتی جارہی ہے، جسے امریکہ کے اندرونی سیاسی دباؤ، اقتصادی خدشات اور ان کے مجوزہ دورہ چین سے بھی جوڑا جارہا ہے۔
اسرائیل ہیوم کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر صرف محدود پابندیاں عائد کی جائیں گی، بعض پابندیاں ہٹا دی جائیں گی اور ایران کو اربوں ڈالر کی مالی سہولت مل جائے گی، جبکہ اس کے میزائل پروگرام یا خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کو محدود نہیں کیا جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کوشش کررہا ہے کہ حزب اللہ اور لبنان کے معاملے کو بھی ممکنہ معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کو محدود کیا جاسکے۔
اخبار کے مطابق جنوبی لبنان میں جاری طویل جنگ میں اسرائیل کو کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں ہوئی جبکہ شمالی اسرائیل میں سکیورٹی خدشات اور مقامی آبادی کی نقل مکانی نے اندرونی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ