مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنگ رمضان نے صرف خطے کے سیاسی اور سکیورٹی حالات کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ تہران کے شہریوں کی روزمرہ زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ جنگی صورتحال اور اس سے پیدا ہونے والی مشکلات کے باعث شہری آمدورفت مزید دشوار ہو گئی تھی، جس کے بعد تہران کی شہری انتظامیہ نے عوام پر معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے عوامی ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا فیصلہ کیا۔
ابتدائی طور پر یہ اقدام عارضی اور مختصر مدت کے لیے تھا، لیکن اب اسے مستقل پالیسی بنانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
اس منصوبے کے آغاز سے ہی شہریوں نے اس کا بھرپور استقبال کیا۔ میٹرو اسٹیشنوں پر لوگوں نے اسے بحرانی حالات میں شہری انتظامیہ کی جانب سے سب سے مؤثر عوامی سہولت قرار دیا۔ میٹرو اور بی آر ٹی بسوں کے مفت ہونے سے خاندانوں کے روزمرہ اخراجات میں واضح کمی آئی، خصوصاً مزدوروں، ملازمین، طلبہ اور روزانہ کئی بار سفر کرنے والے افراد کو بڑا فائدہ پہنچا۔
اس اقدام کے نتیجے میں عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ بہت سے شہری، جو پہلے ذاتی گاڑی استعمال کرتے تھے یا اخراجات کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ سے گریز کرتے تھے، اب میٹرو اور بسوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے لگے۔
ماہرین کے مطابق یہ تجربہ تہران جیسے بڑے شہر کے لیے ایک نئے ٹرانسپورٹ ماڈل کی بنیاد بن سکتا ہے، جہاں برسوں سے ٹریفک، فضائی آلودگی اور ایندھن کے زیادہ استعمال جیسے مسائل موجود ہیں۔
تاہم یہ منصوبہ ابتدا سے ہی عارضی نوعیت کا تھا اور اس کی توسیع کے لیے ہر ہفتے سٹی کونسل کی منظوری درکار ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے ہر ہفتے اس کی مدت میں توسیع کی جاتی رہی، لیکن اس بار کونسل کا اجلاس نہ ہونے کے باعث توسیع ممکن نہ ہو سکی اور عوامی ٹرانسپورٹ دوبارہ معمول کے کرایوں پر واپس آ رہی ہے۔
اس حوالے سے تہران سٹی کونسل کے نائب چیئرمین پرویز سروری نے مہر کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگی حالات کے بعد یہ منصوبہ عارضی طور پر منظور کیا گیا تھا، تاہم اس کے لیے ہر ہفتے توسیع ضروری تھی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے اس منصوبے میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کی گئی تھی، لیکن اس ہفتے کونسل کا اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ توسیع ممکن نہیں ہو سکی۔
ان کے مطابق 12 مئی کے بعد میٹرو اور بی آر ٹی بسوں کا استعمال دوبارہ بامعاوضہ ہو جائے گا، مگر یہ کہ منگل کے روز ہونے والے کونسل اجلاس میں اس معاملے پر دوبارہ غور کر کے توسیع دی جائے۔
پرویز سروری نے مستقل طور پر مفت عوامی ٹرانسپورٹ کے امکان کے بارے میں کہا کہ جنگی حالات کے علاوہ میٹرو اور بی آر ٹی بسوں کو مستقل مفت کرنے کے لیے فوری نوعیت کی ایک تجویز سٹی کونسل میں پیش کرنا ہوگی تاکہ اس پر غور اور ووٹنگ ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی تجاویز میں مختلف ماڈلز زیر غور ہیں، جن میں ایک تجویز یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں ان خاندانوں کو مفت سفر کی سہولت دی جائے جو شہری ٹیکس اور واجبات ادا کرتے ہیں، اور بعد میں اس منصوبے کا دائرہ وسیع کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم اب تک تقریباً 10 ارکان ابتدائی طور پر اس منصوبے کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں مفت عوامی ٹرانسپورٹ کا معاملہ تہران کی شہری انتظامیہ میں ایک اہم بحث بن چکا ہے۔ اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ میٹرو اور بسوں کو مفت کرنے سے شہری مساوات کو فروغ ملے گا اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے عوامی سہولیات تک رسائی آسان ہو گی۔
دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بھی عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی ترغیب دینے کے لیے اسی نوعیت کی پالیسیاں اپنائی گئی ہیں، کیونکہ ذاتی گاڑیوں کے کم استعمال سے نہ صرف ٹریفک میں کمی آتی ہے بلکہ فضائی آلودگی اور توانائی کے استعمال میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل طور پر ایسی اسکیم چلانے کے لیے مستحکم مالی وسائل ضروری ہوں گے، کیونکہ میٹرو لائنوں کی دیکھ بھال، کوچز کی مرمت، نئے بیڑے کی خریداری اور بس سروس کے اخراجات کا بڑا حصہ ٹکٹوں کی آمدنی سے پورا کیا جاتا ہے۔
اسی دوران سٹی کونسل کے بعض ارکان نے مرحلہ وار منصوبہ نافذ کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
پرویز سروری نے اس بارے میں مزید کہا کہ مختلف تجاویز زیر غور ہیں اور بعض نمائندوں نے سفارش کی ہے کہ پہلے مرحلے میں شہری ٹیکس ادا کرنے والے خاندانوں کو مفت سفر کی سہولت دی جائے اور بعد میں اسے مزید وسعت دی جائے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کا ماڈل نہ صرف اخراجات کا کچھ حصہ پورا کر سکتا ہے بلکہ شہریوں کو ٹیکس اور واجبات کی بروقت ادائیگی کی ترغیب بھی دے سکتا ہے۔
سماجی لحاظ سے بھی اس منصوبے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ سستی یا مفت عوامی ٹرانسپورٹ شہریوں کے درمیان سہولیات تک رسائی کے فرق کو کم کر سکتی ہے، خصوصاً تہران جیسے شہر میں جہاں لوگوں کو اپنے گھروں سے کام یا تعلیمی اداروں تک طویل اور مہنگا سفر کرنا پڑتا ہے۔
ان تمام بحثوں کے باوجود ابھی تک اس منصوبے کے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
تہران سٹی کونسل کے نائب چیئرمین نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً 10 ارکان ابتدائی طور پر اس منصوبے کی حمایت کر چکے ہیں، تاہم باضابطہ ووٹنگ کے وقت کتنے ارکان اس کے حق میں ہوں گے، یہ ابھی واضح نہیں۔
اب عارضی مفت سفری سہولت کے خاتمے کے بعد تمام نظریں سٹی کونسل کے آئندہ اجلاس پر لگی ہوئی ہیں، جہاں تہران کی حالیہ برسوں کی سب سے منفرد عوامی ٹرانسپورٹ پالیسی کے مستقبل کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے؛ ایک ایسا منصوبہ جو جنگ رمضان کے بحرانی دنوں میں شروع ہوا اور اب شاید دارالحکومت کی مستقل پالیسی بننے جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ