مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی اخبار "عکاظ" کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ تہران خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور بڑے پیمانے پر تصادم سے بچنے کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان مکالمے اور مشترکہ اقدامات کو سب سے مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔
علی رضا عنایتی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد سفارتی سرگرمیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جن میں عمان کے وزیر خارجہ کا دورۂ تہران اور سعودی عرب، قطر اور عمان کے وزرائے خارجہ کے ایران سے مسلسل رابطے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات علاقائی استحکام اور سلامتی کے مفاد میں ہیں اور ایران نے عملی طور پر خطے کے امن و سلامتی کے لیے اپنی وابستگی ثابت کی ہے۔ ایران کشیدگی میں اضافے اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی ہر کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ایرانی سفیر نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کا تنازع، حتیٰ کہ اگر وہ کسی ایک ملک کو نشانہ بنائے، پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
ریاض میں ایران کے سفیر کا کہنا تھا کہ ایران تمام علاقائی بحرانوں کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے اور پیچیدہ ترین مسائل کے حل کے لیے بھی بات چیت کو واحد راستہ سمجھتا ہے، تاہم بعض فریقین اس آپشن کو نظر انداز کر کے محاذ آرائی کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے علی رضا عنایتی نے کہا کہ ایران ہمسایہ ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات کے قیام کے لیے مسلسل رابطے، باہمی احترام اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں پر کاربند ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان ملاقاتیں، مستقل رابطے اور مثبت گفتگو اسی پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا وژن ایک ایسا خطہ ہے جو خوشحالی اور استحکام پر مبنی ہو، اور تہران اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے برادر ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس میں سب کے مفادات شامل ہوں۔
ایرانی سفیر نے ایران کے بعض شہروں میں حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان احتجاجی مظاہروں کا آغاز معاشی مسائل سے ہوا تھا، جن میں تاجروں اور دکانداروں کی جانب سے مہنگائی، زرِ مبادلہ کی قیمتوں اور معاشی دباؤ کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کو آئینی اور جائز شہری اظہار سمجھا اور متعلقہ اداروں کو تحمل اور تشدد سے گریز کی ہدایات جاری کیں۔ بعد ازاں یہ مظاہرے پرامن راستے سے ہٹ گئے اور بدامنی اور انتشار کی شکل اختیار کر گئے، جنہیں بیرونی عناصر نے تشدد بھڑکانے، سلامتی کو نقصان پہنچانے اور عوامی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، کسی ایک ملک میں استحکام پڑوسی ممالک کے لیے مثبت اثر رکھتا ہے، جبکہ کسی ایک ملک میں عدم استحکام پورے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
ایرانی سفیر نے سیاسی، سلامتی اور معاشی شعبوں میں اجتماعی اقدامات پر مبنی جامع علاقائی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کسی بھی ملک کو علاقائی نظام سے الگ نہیں کیا جانا چاہیے۔
علی رضا عنایتی نے واضح کیا کہ خطے کے لیے اصل خطرہ اسرائیل ہے۔
آپ کا تبصرہ