مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں ایک ذمہ دار طاقت ہے اور کسی بھی قسم کی غنڈہ گردی کو قبول نہیں کرتا۔
تفصیلات کے مطابق ہفتہ وار پریس کانفرنس میں امریکہ کے ایران کے خلاف الزامات اور ایران کی جانب سے پیش کردہ تجویز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے صرف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا جنگ کے خاتمے کا مطالبہ، ایرانی جہازوں کے خلاف سمندری ڈاکہ زنی کو روکنے کی درخواست، ایرانی عوام کے وہ اثاثے جو برسوں سے ناجائز طور پر منجمد ہیں ان کی واپسی کا مطالبہ، یا ایران کی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی بات کرنا کوئی زیادتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کی تجویز بھی ایران کی جانب سے پیش کی گئی ہے اور یہ کسی طرح بھی غیر معمولی مطالبہ نہیں ہے۔ اسی طرح خطے میں اور جنوبی لبنان میں امن اور استحکام کا قیام بھی ایران کی تجاویز کا حصہ ہے۔
بقائی نے کہا کہ ایران نے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ نہ صرف ایران کے مفادات بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہیں اور انہیں ایک جامع پیکیج کی صورت میں زیر بحث لایا جانا تھا، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امریکی فریق اب بھی صہیونی حکومت کی تیار کردہ سوچ اور بیانیے کے مطابق اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مصر کی جانب سے ایرانی ڈرونز کو نشانہ بنانے کے لیے جنگی طیارے بھیجنے کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور مصر کے تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کی سلامتی کا معاملہ دراصل خطے کے ممالک سے متعلق ہے اور کسی بھی ایسی مداخلت کو ایران مسترد کرتا ہے جو علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچائے، چاہے وہ کسی بھی ملک کی جانب سے کیوں نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایسی سلامتی جو خطے میں غیر ملکی افواج کی موجودگی پر انحصار کرے درحقیقت عدم استحکام کو بڑھاتی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ایران کے خلاف الزامات کے جواب میں کہا کہ ایران نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں ایک ذمہ دار طاقت ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ غنڈہ گردی کے خلاف کھڑا رہنے والا ملک بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ ایران نے کبھی دوسرے ممالک کے خلاف فوج کشی نہیں کی اور نہ ہی مغربی نصف کرے کے ممالک کے خلاف دھونس اور دباؤ کی پالیسی اختیار کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران دو مواقع پر قتل و غارت اور دہشت گردی کے واقعات بھی پیش آئے اور یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ امریکہ کی خطے میں مداخلت اور موجودگی خود اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح خطے میں تشدد اور کشیدگی کا ایک نیا سلسلہ پیدا ہوتا ہے۔
آپ کا تبصرہ