مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکرون نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت انتباہ کے بعد کہا ہے کہ فرانس کا اس آبی گزرگاہ میں اپنے جنگی جہاز تعینات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں فرانسیسی جنگی جہاز بھیجنا کبھی بھی پیرس کی ترجیح نہیں رہی۔
اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ فرانسیسی فوج نے طیارہ بردار بحری جہاز شارل ڈیگال کی نہر سویز سے خلیج فارس کی طرف پیش قدمی کی تصاویر جاری کی تھیں۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے خطے میں فرانسیسی اور برطانوی جنگی جہازوں کی تعیناتی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی صرف ایران کے ذریعے ہی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ خطے سے باہر کے ممالک کے جنگی جہازوں کی تعیناتی، جہاز رانی کے تحفظ کے دعوے کے باوجود، دراصل بحران کو بڑھانے اور ایک اہم آبی گزرگاہ کو عسکری بنانے کے مترادف ہے جبکہ خطے میں عدم استحکام کی اصل وجہ طاقت کا غیر قانونی استعمال، ساحلی ریاستوں کو دھمکیاں اور بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات ہیں۔
آپ کا تبصرہ