17 اپریل، 2026، 1:13 PM

شکست کے بعد امریکہ نے مجبور ہوکر ایران کے ساتھ جنگ بندی قبول کی، الحوثی

شکست کے بعد امریکہ نے مجبور ہوکر ایران کے ساتھ جنگ بندی قبول کی، الحوثی

انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے کہا کہ ایران کے جوابی حملوں میں امریکی فوجی اڈے تباہ، سینکڑوں فوجی ہلاک و زخمی ہوئے اور ایران کے ساتھ جنگ بندی پر مجبور ہوا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی مجبوری کے تحت قبول کی، کیونکہ اسے جنگ کے دوران بھاری جانی و عسکری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق قومی ٹیلیویژن پر خطاب میں انہوں نے کہا کہ دشمنوں کو جنگ بندی پر اس وقت مجبور ہونا پڑا جب انہیں فوجی افرادی قوت کے لحاظ سے شدید نقصان اٹھانا پڑا اور سینکڑوں فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔ حملہ آوروں کو فوجی ساز و سامان کے میدان میں بھی نمایاں نقصان پہنچا اور خطے میں امریکی اڈے تباہ کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے چالیس دن بعد پاکستان کی ثالثی سے دو ہفتے کی جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات امریکی وفد کے حد سے زیادہ مطالبات اور مسلسل بدلتے مؤقف کے باعث کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے بنیادی اہداف میں اسلامی نظام کا خاتمہ شامل تھا۔ دشمنوں کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو ختم کرنا اور اس کے اس کردار کو مٹانا تھا جو صہیونی منصوبے کے مقابلے میں اسلامی اثر و نفوذ اور خطے کے عوام کی حمایت کے طور پر نمایاں ہے۔

یمنی رہنما نے کہا کہ امریکی افواج کو درجنوں طیاروں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جن میں جنگی جہاز، ٹرانسپورٹ طیارے، ایندھن فراہم کرنے والے طیارے، ابتدائی وارننگ طیارے اور دیگر شامل ہیں۔ امریکہ کو اقتصادی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا، کیونکہ براہ راست جنگی اخراجات بڑھے، فوجی ذخائر میں کمی آئی اور طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے اضافی ضروریات پیدا ہوئیں۔

عبدالملک الحوثی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے پاس ایران کے خلاف جنگ کا کوئی جواز نہیں تھا اور یہ کھلی جارحیت خطے کی سلامتی و استحکام کو خطرے میں ڈال رہی تھی، جس کے عالمی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے تھے۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ دراصل صہیونی جارحیت ہے جس کے خطرناک اور دشمنانہ اہداف ہیں، اور اسے عرب و اسلامی خطے کے خلاف بلاجواز مسلط کیا گیا۔

انہوں نے دعوی کیا کہ جنگ کی غیرقانونی اور بلااشتعال نوعیت کے باعث کئی یورپی ممالک اور حتی نیٹو نے بھی اس میں شریک ہونے سے انکار کر دیا، تاہم بعض خلیجی عرب ریاستوں نے اس جارحیت میں تعاون کیا۔ بعض عرب حکومتیں اپنی فضائی حدود اور سرزمین فراہم کرکے اور مختلف طریقوں سے مدد دے کر خطے کے خلاف ہونے والی جارحیت میں شریک بنیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے یورپی ممالک اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ جنگ عالمی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، اسی لیے وہ اسے اپنے مفاد میں نہیں سمجھتے کہ اس جنگ میں شامل ہوں۔

یمنی رہنما نے امریکہ اور اسرائیل کو غیر معمولی اور بیرونی جارح قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ظلم، استبداد اور جرائم کے ذریعے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے عوام ثابت قدم اور مزاحمت کرنے والے ہیں اور کوئی بھی انہیں نقشے سے مٹا نہیں سکتا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو جارحیت، قبضے، لوٹ مار اور تسلط کے لیے آئے ہیں۔

عبدالملک الحوثی نے بتایا کہ رواں ماہ کے آغاز میں یمنی محاذ نے مزاحمتی محاذ کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں میں حصہ لیا، اسرائیل کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور بحیرہ احمر کو اسرائیلی و امریکی افواج کے لیے ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔

News ID 1938915

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha