مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے حالیہ فسادات کے بارے میں ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پرتشدد واقعات جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ میں شکست کے بعد امریکہ اور صہیونی رژیم کی جانب سے رچی گئی ایک منظم سازش کا حصہ تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جب امریکہ اور صہیونی رژیم کو یہ احساس ہو گیا کہ صرف فوجی طاقت کے ذریعے ایرانی قوم کو جھکایا نہیں جا سکتا، تو انہوں نے ملک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔
کونسل کے مطابق، ایرانی قوم کا غیر معمولی اتحاد اور سماجی یکجہتی 12 روزہ جنگ میں ایران کی کامیابی کا بنیادی سبب بنی، جس نے دشمن کے تمام اندازوں کو ناکام بنا دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ جنگ میں ناکامی کے بعد امریکہ اور صہیونی رژیم نے تاجروں اور دکانداروں کے بعض پرامن احتجاجات کو دانستہ طور پر تشدد، فسادات اور دہشت گردی میں بدلنے کی کوشش کی۔
کونسل نے واضح کیا کہ حکومت نے پرامن مظاہرین کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کیے، تاہم منظم تخریبی نیٹ ورکس نے احتجاجات کو پرامن رہنے نہیں دیا اور مختلف شہروں میں تشدد بھڑکایا۔
سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق، 8 اور 9 جنوری کو ملک کو غیر مستحکم کرنے اور شہروں پر کنٹرول حاصل کرنے کی نیت سے انتہائی سنگین اور مجرمانہ کارروائیاں انجام دی گئیں۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں، عوامی تعاون اور رہبرِ انقلاب اسلامی کی دانشمندانہ قیادت کے باعث دشمن ایک بار پھر ناکام ہوا، قومی اتحاد برقرار رہا اور ایران کو ایک بڑے فتنے سے محفوظ رکھا گیا۔
آپ کا تبصرہ