مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان وزارت خارجہ ناصر کنعانی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی دشمنی اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ صرف میزائل اور ایٹمی پروگرام تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ بالاتر ہے۔
مہر نیوز پر ایک خصوصی نوٹ میں امریکی پالیسیوں کو جارحانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے ایران کے خلاف سخت رویہ اپنایا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر دشمنی کو بڑھایا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 13 جون کو اسرائیل نے امریکہ کی مکمل حمایت کے ساتھ ایران پر 12 روزہ جنگ مسلط کی، اور یہی جارحانہ پالیسیاں شام، عراق، نائیجیریا، لاطینی امریکا اور دیگر خطوں میں بھی جاری ہیں۔ امریکا نے حالیہ حملے میں وینزویلا کے قانونی صدر نکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کیا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
کنعانی نے کہا کہ امریکا اپنی بے لگام پالیسیوں اور ریاستی دہشت گردی کے ذریعے دنیا کو بدامنی اور انتشار کی طرف دھکیل رہا ہے۔ امریکی رویے نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو مزید جری بنا دیا ہے، جو کھلے عام اعلان کرتا ہے کہ وہ اور ٹرمپ ایران کو میزائل اور ایٹمی پروگرام دوبارہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
سابق ترجمان نے زور دیا کہ ایران کا اپنے ایٹمی حقوق پر اصرار اور دفاعی و عسکری صلاحیتوں میں تنوع پیدا کرنا دانشمندی کی علامت ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور قومی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ ایران کی طاقت کے عناصر کو ختم کرکے اسے کمزور اور تقسیم کیا جائے، لیکن ایرانی قوم رہبر معظم، مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دے گی۔
آپ کا تبصرہ