مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے امریکی ٹی وی چینل NBC کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرامریکی حکام گذشتہ 50 برسوں کی پالیسیوں کو جاری رکھیں گے تو نقصان اٹھائیں گے۔
صدر احمدی نژادنےکہا کہ دنیا کے موجودہ شرائط سے دنیا کے تمام ماہرین اور مفکرین خوش نہیں ہیں کیونکہ آج انسانیت کی عزت و کرامت خطرے میں ہے آج عناد ، دشمنی، خوف و ہراس ، ناانصافی ، ظلم و تشدد نے انسانی معاشرے کو ویران کرکے رکھ دیا ہے اور جو لوگ آج انسانی معاشرے کی سعادت و فلاح و بہبود کے خواہاں ہیں وہ دنیا میں امن و صلح کے لئے موجودہ حالت میں تبدیلی کی کوشش کررہے ہیں صدر نےکہا کہ امریکہ اگر اپنی ظالمانہ عادت وخصلت بدل دےگا تو اس کے ساتھ روابط برقرار کرنے میں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن امریکہ اگر اپنی جارحانہ پالیسی پر برقرار رہتا ہے تو اس سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے صدر احمدی نژاد نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو پاک انرجی کی اس وقت سخت ضرورت ہے ایٹمی انرجی اور ایٹمی ہتھیاروں میں بڑا فرق ہے ہم ایٹمی ہتھیاروں کے پیچھے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ ہی ایٹمی ہتھیار کسی کو بچا سکتے ہیں صدر نےکہا کہ سویت یونین کو ایٹمی ہتھیار ٹوٹنے سے نہیں بچا سکے اور اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار تھے لیکن پھر بھی اسے 33 دن کی جنگ میں حزب اللہ کے ہاتھوں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ صدر احمدی نژاد نے این بی سی کے نامہ نگار سے گفتگو میں کہا کہ ایران پرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھےگا کیونکہ یہ ایرانی عوام کا حق ہے اور حکومت ایرانی عوام کے حقوق کا مکمل دفاع کرےگی صدر احمدی نژاد نے مغربی ذرائع کی طرف سےایران کے میزائل تجربوں میں شکوک و شبہات پھیلانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا میزائل نظام اپنی جگہ پر استوار ہے ضرورت پڑنے پر پھر اس کا مظاہرہ کردیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ