مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراقی مشترکہ آپریشنز کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے نام سے موسوم افواج اگلے ہفتے صوبہ الانبار میں واقع عین الاسد ایئر بیس سے خارج ہو جائیں گی۔
اس رپورٹ کے مطابق، عراقی مشترکہ آپریشنز کمانڈ نے اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ ان کے ملک نے سال 2025 میں نمایاں سکیورٹی کامیابیاں اور دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں میں واضح کمی دیکھی ہے، اس بات کی تصدیق کی کہ بین الاقوامی اتحاد کی افواج ایک ہفتے کے اندر عین الاسد ایئر بیس سے نکلنا شروع کر دیں گی۔
عراقی مشترکہ آپریشنز کے ڈپٹی کمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل قیس المحمداوی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے اس سال ڈرون حملوں میں 39 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے اور عراقی سرحدوں سے دراندازی کی شرح صفر فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سال 2026 میں بقیہ صوبوں میں سکیورٹی ذمہ داریوں کی وزارتِ داخلہ کو منتقلی مکمل کر لی جائے گی اور متنازعہ علاقوں میں سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے اقلیمِ کردستان کی پیش مرگہ فورسز کے ساتھ سکیورٹی کوآرڈینیشن جاری رہے گی۔
عراقی وزیراعظم کے مشیر حسین علاوی نے بھی تصدیق کی ہے کہ عراقی فوج آنے والے دنوں میں صوبہ الانبار میں واقع عین الاسد ایئر بیس میں بین الاقوامی اتحاد کے ہیڈ کوارٹر کا کنٹرول سنبھال لے گی۔
انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ عراقی حکومت اسٹریٹجک فریم ورک معاہدے کے تحت امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے ساتھ ایسے تعلقات استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے جو عراق کی قومی سلامتی کو تقویت دیں۔
علاوی نے مزید کہا کہ عراقی فورسز کی جانب سے عین الاسد فوجی اڈے کا کنٹرول سنبھالنا، دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ کے ایک اہم باب کا خاتمہ کر دے گا۔
عراقی وزیراعظم کے مشیر نے زور دیا کہ بغداد ستمبر 2026 میں عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے خاتمے کے دوسرے مرحلے کو مکمل کرنے کے لیے کوششیں کرے گا۔
آپ کا تبصرہ