مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوری ایران اور برازیل کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ موجودہ عالمی حالات مخصوصا وینزویلا کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور برازیل کے وزیر خارجہ ماؤرو ویرا نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی فورمز پر قریبی تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے تاکہ یکطرفہ اقدامات کا مقابلہ کیا جاسکے اور بین الاقوامی قانون نیز اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کا تحفظ ممکن ہو۔
گفتگو کے دوران سید عباس عراقچی نے وینزویلا پر امریکا کے فوجی حملے اور صدر اور خاتون اول کے اغوا کا حوالہ دیتے ہوئے اس اقدام کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کی دھونس پر مبنی پالیسیاں عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی کے لیے نہایت خطرناک نتائج کی حامل ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے یکطرفہ اقدامات سے بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کی بنیادوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔
برازیل کے وزیر خارجہ ماؤرو ویرا نے اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کسی آزاد ملک کے صدر کا اغوا اقوام متحدہ کے منشور کی واضح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ برازیل اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکی ریاستوں کی تنظیم اور لاطینی امریکی و کیریبین ممالک کی کمیونٹی کے اجلاسوں میں اٹھائے گا۔
آپ کا تبصرہ