مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی تازہ رپورٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں ایرانی ایٹمی سرگرمیوں پر شکوک کا اظہار کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی معاون وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریبآبادی نے رپورٹ کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارے کی رپورٹ من گھڑت اور ناقابل اعتماد معلومات پر مبنی ہے جس میں کئی دہائیاں پرانے الزامات کو دوبارہ دہرایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں ایران کی جانب سے عالمی جوہری ادارے کے قریبی تعاون اور وسیع معائنے کو نظرانداز کرکے ایسے معاملات کو اٹھایا گیا ہے جو بیس سال سے بھی پرانے ہیں اور جنہیں ماضی میں ختم کردیا گیا ہے۔
غریبآبادی کے مطابق آئی اے ای اے نے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ ایران کی موجودہ ایٹمی سرگرمیوں میں کسی قسم کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ تاہم ادارے بعض ممالک کے سیاسی دباؤ کے تحت دوبارہ انہی پرانے الزامات کو اٹھایا ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں پرامن ہیں اور بین الاقوامی نگرانی میں انجام دی جا رہی ہیں لہذا ایجنسی کو پرانی اور بند فائلوں کو کھول ک ماحول کو سیاسی بنانے کے بجائے ایران کے تعاون اور شفافیت کو سراہنا چاہیے تھا۔
آپ کا تبصرہ