21 نومبر، 2008، 7:13 PM

ہاشمی رفسنجانی

ایران کو بین الاقوامی جوہری ادارے کی رفتار پر شکایت اور اعتراض ہے

ایران کو بین الاقوامی جوہری ادارے کی رفتار پر شکایت اور اعتراض ہے

مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہاشمی رفسنجانی نے بین الاقوامی جوہری ادارے کی رپورٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے دو پہلو قراردیا اور کہاکہ ایران کو سکیورٹی کونسل اور بین الاقوامی جوہری ادارے کی دوگانہ پالیسیوں پر شدید اعتراض ہے ۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق  مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے آج تہران میں نماز جمعہ کے خطبوں  میں بین الاقوامی جوہری ادارے کی رپورٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے دو پہلو قراردیا اور کہا کہ ہمیں سکیورٹی کونسل اور بین الاقوامی جوہری ادارے کی دوگانہ پالیسیوں پر شدید اعتراض ہے  ۔ ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی اسی طرح دو پہلو بات کررہے ہیں وہ ایک طرف ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کو پرامن قراردے رہے ہیں  اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئي انحراف نہیں ہے اور دوسری طرف ایسی باتوں کا مطالبہ کررہے ہیں جن کا ایران اور بین الاقوامی جوہری ادارے کے معاہدوں سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ہاشمی رفسنجانی نے ایٹمی ادارے پر زوردیا ہے کہ اسے غیر جانب دار رہنا چاہیے اور دو پہلو بات کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری ادارے نے جو ہم سے مانگا ہم نے وہ اسے پیش کردیا اور اس کے بعد بین الاقوامی ایٹمی ادارے نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو پر امن قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی ابہام موجود نہیں ہے لیکن ادھر امریکہ نے دعوی کیا کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لئے نہیں،  حتی امریکہ نے اس سلسلے میں کوئي ثبوت بھی بین الاقوامی جوہری ادارے کو پیش نہیں کیا صرف جھوٹے دعوے کررہا ہے لہذا بین الاقوامی جوہری ادارے کو امریکہ کے بےبنیاد دعوؤں کے مد مقابل ٹھوس مؤقف اختیار کرنا چاہیے کیونکہ یہ بین الاقوامی جوہری ادارہ ہے اسے امریکی جوہری ادارہ نہیں بننا چاہیے کیونکہ اس سے اسی کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایران دوسرے ممالک کے غلط اور جھوٹے مطالبات کے علاوہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق تعاون جاری رکھےگا۔

News ID 787207

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha