مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایندھن کی فراہمی کے نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے باعث، امریکہ میں ڈیزل کی قیمت بے مثال سطح پر پہنچ گئی ہے اور اس کی اوسط قیمت 5.85 ڈالر فی گیلن ہوگئی ہے۔
مال برداری اور اشیاء کی ترسیل کے وسیع نیٹ ورک میں ڈیزل کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس ایندھن کی قیمت میں اضافہ روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاء کی منتقلی کے اخراجات میں اضافے کا باعث بنے گا۔
ایندھن کے اخراجات میں اضافے نے مختلف شعبوں میں کمپنیوں کے اخراجات کا بوجھ بڑھا دیا ہے اور بعض کمپنیوں نے پہلے ہی آن لائن آرڈرز اور ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے پیکجز پر اضافی فیس عائد کرکے ان اخراجات کا ایک حصہ کسٹمر پر عائد کردیا ہے۔
ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا فوری اثر خاص طور پر اشیائے خورونوش کی دکانوں پر، بالخصوص سبزیوں، پھلوں، گوشت اور دیگر جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا پر پڑ رہا ہے۔
ایران کے خلاف جنگی جنون کے نتیجے میں امریکہ میں عام پٹرول کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے، اگرچہ اس اضافے کی رفتار ڈیزل کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (AAA) کے مطابق، عام پٹرول کی اوسط قیمت 4.15 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ قیمت 3.20 ڈالر فی گیلن تھی۔
آپ کا تبصرہ