مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام حسین طائب نے جمعہ کے روز بسیجی شہداء کے اہلِ خانہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایران کی طاقت و اقتدار اس قوم کے بیٹوں اور شہداء کے خاندانوں کے فرزندوں کی جان نثاری اور قربانی کی مرہونِ منّت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں کوئی بھی قوم ایرانی عظیم قوم کی طرح امریکہ کی غنڈہ گردی کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی اور مزاحمت نہیں کر سکی۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمارا انقلاب، ولی امرِ مسلمین، فوجی کمانڈروں، بسیجیوں اور مسلط کردہ جنگ میں عوام کے مختلف طبقات کی شہادتوں کے مرہونِ منّت جاری و ساری ہے۔
سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے بسیجِ مستضعفین کے سربراہ نے مزید کہا کہ شہداء کے خاندان اس قوم کی آنکھوں کا نور ہیں۔ ہم ان بہادر مردوں اور خواتین کی مزاحمت کی داستان کو فراموش نہیں کر سکتے، جنہوں نے اپنی پوری قوت کے ساتھ ڈٹ کر استکبار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔
حجت الاسلام طائب نے کہا کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری افرادی قوت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جب بھی کوئی شخص شہید ہوتا ہے تو اس کا پرچم اور اس کا ہتھیار کسی دوسرے مجاہد کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ یہ تحریک اسی طرح جاری ہے اور آخرکار یہ امریکی ہی ہیں جو مظلوم قوموں کے حقوق واپس کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ ایسی سرزمین نہیں ہے جہاں دشمن آسانی سے آ کر اس ملک، اس کے تیل اور اس کے وسائل پر قبضہ کر سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکہ کو مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پر عمل کرنا ہوگا، کہا کہ امریکہ کے پاس ایرانی عظیم قوم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، کیونکہ اسی نے جنگ شروع کی، ہمارے رہبر، فوجی کمانڈروں، بچوں اور خواتین کو شہید کیا اور اس معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ کو مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔
سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے بسیجِ مستضعفین کے سربراہ نے مزید کہا کہ امریکی جنگ کے محاذ پر اپنی بے بسی کے باعث پسپا ہوئے۔ ٹرمپ اعلان کرتا ہے کہ ہم نے سپاہ کی بحری اور ایرانی فضائی افواج کو تباہ کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اپنی بیشتر طاقت خطے میں لا رہا ہے، لیکن اسے پاسدارانِ انقلابِ اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی دلیرانہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ استکباری نظام اپنی شرمناک شکست کا ازالہ کرنے کے لیے جنگ کے میدان میں آنے کے بجائے شادی کی تقریب اور اسکول کو بھی نشانہ بناتا ہے۔
حجت الاسلام طائب نے کہا کہ پاکستان میں جاری مذاکرات کے دوران بھی امریکہ آبنائے ہرمز پر قبضہ کرنے کے درپے تھا۔ اس نے اپنے تمام خصوصی آپریشنز یونٹس اس علاقے میں منتقل کر دیے تھے، تاکہ اپنے بحری جہازوں کو اس راستے سے گزار سکے اور اس طرح مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی، لیکن ایرانی مجاہدین اور پاسدارانِ انقلاب نے اسے ایسا کرنے نہیں دیا اور دشمن ایک بار پھر اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہا۔
آپ کا تبصرہ