4 ستمبر، 2026، 5:39 PM

ابراہام لنکن کے ملاحوں کو میڈیا سے گفتگو سے روک دیا گیا

ابراہام لنکن کے ملاحوں کو میڈیا سے گفتگو سے روک دیا گیا

برطانوی اخبار گارڈین نے لکھا ہے کہ بدھ کے روز تھائی لینڈ کے ساحل پر لنگر انداز ہونے والے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کے ملاحوں کو گزشتہ چھ ماہ کے دوران جہاز پر درپیش سخت حالات کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی اخبار گارڈین نے لکھا کہ امریکی بحری جہاز ابراہام لنکن کے تھائی لینڈ کے ساحل پر لنگر انداز ہونے کے بعد اس کے بعض ملاحوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ چھ ماہ کے دوران جہاز پر موجود حالات کے بارے میں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اسی حوالے سے رشیا ٹوڈے نے رپورٹ کیا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن جب تھائی لینڈ کی بندرگاہ لام چابانگ میں لنگر انداز ہوا تو اس نے لوگوں کو حیران کر دیا، کیونکہ جہاز کا اگلا حصہ (دماغہ) سے لے کر نچلے حصے تک زنگ زدہ ہوا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے بحری جہاز کے لیے یہ صورتِ حال غیر متوقع نہیں، جو چھ ماہ سے زائد عرصے تک مسلسل سمندر میں رہا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگی کاروائیوں کے دوران زنگ کی صفائی ممکن نہیں ہوتی اور اسے مکمل طور پر دور کرنے کے لیے تقریباً 30 دن کی مرمت درکار ہوتی ہے۔

امریکی بحریہ کے سابق کپتان کارل شوستر نے مزید کہا کہ سات روزہ قیام کے دوران عملہ ترجیحی بنیادوں پر مرمتی کام انجام دے گا، جس میں خاص طور پر جہاز کے اگلے حصے پر توجہ دی جائے گی، جہاں زنگ سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ زنگ ایک متعدی بیماری کی طرح پھیلتا ہے اور اسے ابتدائی مراحل ہی میں قابو کرنا ضروری ہے، اس سے پہلے کہ یہ جہاز کے ڈھانچے کو کمزور کر دے۔

طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن نے مسلسل 286 دن سمندر میں گزارے، جن میں مغربی ایشیاء میں جنگی کاروائیاں اور ایران کے خلاف ناکہ بندی بھی شامل تھی۔

میڈیا رپورٹس میں اس بحری جہاز کے عملے میں نفسیاتی مسائل اور رسد کی کمی کا بھی ذکر کیا گیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عجلت میں ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس جہاز کی کاروائیاں اتنی طویل نہیں تھیں۔

News ID 1941124

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha