مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ تہران آیت اللہ سید احمد خاتمی نے نمازِ جمعہ کے خطبوں میں کہا کہ اقتصادی دباؤ اور معاشی محاصرہ کوئی نئی بات نہیں کہ جسے ٹرمپ اپنی ایجاد قرار دے؛ یہ مسئلہ اسلام کے آغاز ہی سے موجود ہے۔ دشمن معاشی دباؤ اور اقتصادی محاصرے کے ذریعے عوام اور نظام کے درمیان فاصلہ اور جبهۂ حق کو کمزور کرنا چاہتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جس طرح صدرِ اسلام کے دشمن ناکام ہوئے تھے، یہ دشمن بھی یقینی طور پر شکست کھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رسولِ خدا نے معاشی دباؤ کا مقابلہ دو بنیادی اصولوں کے ذریعے کیا: جہاد اور مسلسل جدوجہد۔ یہی دو اصول آج بھی ہماری ضرورت ہیں۔ جہاد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ اقتصادی میدان میں اقتصادی مزاحمت اور فکری میدان میں جہادِ تبیین کی صورت میں بھی جاری رہتا ہے۔
آیت اللہ خاتمی نے کہا کہ آج کا معرکہ ایک مرکب جنگ ہے، جس میں فوجی، اقتصادی، میڈیا اور ثقافتی محاذ سب شامل ہیں۔ ہماری مسلح افواج ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے آمادہ ہیں اور ہمیں ان پر فخر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی نظام کے ذمہ داروں کا فرض ہے کہ وہ جہادی انداز میں اقتصادی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہ عوام کا حق ہے۔ اسی طرح عوام بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اسلامی نظام کی مدد کریں۔
آیت اللہ خاتمی نے زور دے کر کہا کہ ہم کر سکتے ہیں کے جذبے کی حفاظت ضروری ہے اور کسی کو بھی ایسا کلام نہیں کرنا چاہیے جس سے کمزوری یا ناتوانی کا تاثر ملے، کیونکہ اس سے دشمن کو جرأت ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ زندگی کے تمام شعبوں، خصوصاً سماجی اور سیاسی امور کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ دین اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں اور ظلم، استکبار اور جارحیت کے مقابلے میں خاموش رہنے والا اسلام، حقیقی اسلام نہیں ہو سکتا۔ حقیقی اسلام، اسلامِ نابِ محمدیؐ ہے جو رحمت، عقلانیت اور استقامت کا مجموعہ ہے۔
آیت اللہ خاتمی نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دین اور عادل حکومت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں؛ اگر بنیاد نہ ہو تو عمارت قائم نہیں رہتی اور اگر نگہبان نہ ہو تو بنیاد بھی محفوظ نہیں رہتی۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ ظلم اور استبداد ہمیشہ ناکام ہوئے ہیں اور ایران میں پہلوی خاندان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔
آپ کا تبصرہ