پاکستان کے  سات کروڑ شیعہ مسلمانوں پر ان کے عقائد کے خلاف نصاب مسلط کرنا ظلم ہے

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود احمد ڈومکی نے دیگر مرکزی قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے یکساں نصاب تعلیم کو مسترد کرتے ہیں جس کا مقصد نئی نسل کو مخصوص مسلکی نظریات سے ہم آہنگ کرنا ہو۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود احمد ڈومکی نے دیگر مرکزی قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے یکساں نصاب تعلیم کو مسترد کرتے ہیں جس کا مقصد نئی نسل کو مخصوص مسلکی نظریات سے ہم آہنگ کرنا ہو۔یکساں نصاب تعلیم صرف اسی صورت قابل قبول ہے جب  سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں امیر غریب کے فرق کو مٹا کریکساں انداز سے جدید علوم سکھائے جائیں۔دینی مدارس اور سکولوں میں یکساں نصاب رائج کر کے طبقاتی تفریق کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔یکساں نصاب کے نام ہر مخصوص عقائد کا پرچار اور مخالف مسالک کے بنیادی عقائد کی نفی نہیں کرنے دی جائے گی۔ نصاب تعلیم کو جہاں تکنیکی و علمی اعتبار سے اعلیٰ معیار کا حامل ہونا چاہیے وہیں اسلامی تصور حیات کا رنگ بھی اس پر غالب رہنا چاہیے تاکہ مذکورہ نصاب پڑھ کر ایسی ماہر اور عصری تقاضوں کے مطابق افرادی قوت تیار ہوسکے جو اعلی انسانی و اسلامی اقدار کی حامل ہو۔عالمی استعماری طاقتوں کی ایماء پر امت مسلمہ کے خلاف طرح طرح کے جال بچھائے جا رہے ہیں۔یکساں نصاب میں ایسے اسباق کو شامل نہیں کیا گیا جو طلبا میں تخلیقی سوچ، اتحاد و اخوت اور باہمی احترام پر مبنی ایک پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔  صدیوں سے رائج درود ابراہیمی کو نصاب سے نکال دیا گیا ہے جو کہ پوری دنیا کے مسلمانوں اور تمام مکاتب فکر کے درميان متفق علیہ ہے۔ درود ابراہیمی کی تبدیلی ایک سنگين مسئلہ ہے۔ اسی طرح خاندان رسول اہل بیت اطہار علیہم السلام اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض نزدیکی اصحاب کرام رضی اللہ عنھم کا تعارف، تعلیمات اور سیرت و کردار کو نصاب میں مثالی نمونہ بنا کر پیش نہیں کیا گیا جس سے بچے اسلام کے ایک بڑے مشترکہ ذخیرہ سے محروم ہوجائیں گے۔واقعہ کربلا سمیت تاریخ کے کچھ ایسے اہم گوشے نصاب میں شامل نہیں کیے گئے جو انسانیت ساز واقعات کے حامل ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اور واقعہ کربلا پوری امت مسلمہ بلکہ عالم انسانيت کے نزدیک معرکہ حق و باطل اور رہنما ہے۔ اسی طرح نصاب میں غزوہ بدر احد اور خندق کا ذکر تو کیا گیا ہے مگر اس میں حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی بے مثال  شجاعت کو نظر انداز کیا گیا۔ دعوت ذوالعشیرہ اور شعب ابی طالب جیسے  انتہائی اہمیت کے حامل واقعات بھی نصاب میں شامل نہیں۔ نصاب تعلیم میں خاندان بنوامیہ اور بنوعباس کا تذکرہ تو شامل کیا گیا مگر حضرت سیدالانبیاء کے خاندان رسالت بنوہاشم کو نظرانداز کیا گیا۔ حالانکہ خاندان بنو ہاشم کے بغير اسلام کی تاریخ ادھوری ہے۔اگر تعلیم کے ذریعے قومی و ملی یکجہتی مقصود ہے تو نصاب تعلیم میں اسلامی مکاتب فکر کا تعارف شامل ہونا چاہیے تاکہ بچے سکول کے زمانے سے ہی ایک دوسرے کے بارے درست معلومات حاصل کریں اور مخالف عقیدے کے حامل فرد کے لئے احترام و برداشت کا جذبہ پیدا کرسکیں۔ ملک میں کئی دھائیوں سے جاری فرقہ وارانہ منافرت انتہاء پسندی اور دھشت گردی کے سدباب کے لئے بھی ضروری ہے کہ مذہبی رواداری اور دوسرے مسالک کے احترام کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
نصاب بنانے والوں کے کاندھوں پر کروڑوں بچوں کے مستقبل کی اہم ذمہ داری ہے انہیں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے جہاں نصاب کو علمی اعتبار سے ایک اعلیٰ معیار کا نصاب بنانا ضروری یے وہیں تمام بچوں کے عقیدے و ایمان کا احترام بھی ضروری ہے اور اس کے لیے سب کے عقیدے و عبادات کو شامل نصاب کیا جانا چاہیے۔پاکستان میں مذہبی رواداری اور قومی و ملی یکجہتی کے حصول کے لیے نصاب کے حوالے سے اس سے قبل مختلف تجربات کیئے گئے۔ سنہ 1975 میں ایک ایسی مشترکہ دینیات متعارف کروائی گئی جس کے ایک حصے میں شیعہ بچوں اور ایک حصے میں سنی بچوں کے لئے ان کے اپنے اپنے نظریے اور عقیدے کے مطابق اسباق شامل ہوتے تھے جن کو انہیں کے مکتبہ فکر کے ماہرین ترتیب دیتے تھے۔ اسی اور نوے کی دہائی میں علیحدہ دینیات کا تجربہ کیا گیا اور پھر اچانک بغیر کسی پیشگی اطلاع اور وجہ کے اس کو بھی ختم کرکے یکساں دینیات بنانے کی کوشش کی گئی جس کی موجودہ شکل موجودہ نصاب ہے۔ جب ایک پریکٹس جو نسبتاً دیگر ماڈلز سے بہتر تھی ملک میں چل رہی تو اسے کس اسٹیک ہولڈر کے ساتھ مشاورت کے بعد ختم کیا گیا ہے؟ آئین پاکستان کی رو سے یہ شیعہ سنی بچوں کا آئینی حق یے کہ وہ دینی تعلیم پر مشتمل مضامین اپنے نظریے اور عقیدے کے مطابق پڑھیں۔ اس آئینی حق کی پریکٹس کیوں ختم کی گئی ہے۔ اسے بحال کیا جائے اور اس عمل میں تکنیکی رکاوٹوں کو اسٹرکچر میں تبدیلیاں کرکے دور کیا جائے ۔علیحدہ دینیات کے نفاذ کو بحال اور علیحدہ دینیات پڑھانے کے لیے شیعہ سنی طلباء کے لئے الگ الگ اساتذہ بھرتی کیے جائیں۔ علیحدہ دینیات کا ماڈل قومی یکجہتی اور سماجی رواداری کے حصول میں زیادہ معاون و مددگار ہے۔موجودہ نصاب تعلیم کو اگر اسی شکل میں نافذ کیا گیا تو یہ ملک میں انتشار اور تفریق پیدا کرے گا اس پر نظر ثانی ہونی چاہئے۔ ہم واضح اور دوٹوک الفاظ میں موجودہ متنازع اور مسلکی نصاب کو رد کرتے ہوئے اسے آئین پاکستان میں بیان کردہ اپنے بنیادی حقوق سے متصادم سمجھتے ہیں۔ آئین پاکستان ہمیں مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے پاکستان میں کم و بیش سات کروڑ شیعہ مسلمان رہتے ہیں جو ملکی آبادی کا ایک تہائی بنتے ہیں۔ جن پر ان کے عقائد کے خلاف نصاب مسلط کرنا ظلم ہوگا۔ صورتحال یہ ہے کہ قومی نصاب کونسل میں شیعہ عالم دین علامہ قاضی نیاز حسین نقوی مرحوم کی وفات کے بعد ہماری کوئی نمائندگی نہیں جبکہ ایک سال سے ہم اس خالی نشست پر شیعہ عالم دین کی تعیناتی کے منتظر ہیں۔ اس اہم ترین قومی مسئلے میں کسی بھی مرحلے پر نہ تو ہمیں اعتماد میں لیا گیا اور نہ کبھی ہماری رائے کا احترام کیا گیا۔ ہم نے نصاب کے مسئلے پر وزیراعظم اور وزیر تعلیم کو خطوط لکھے۔ وزیر مذہبی امور سے بات کی کسی نے مسئلے کے حل پر توجہ نہیں دی۔ اس صورتحال میں ملت جعفریہ میں پورے ملک کے اندر شدید تشویش اور اضطراب کی کیفیت ہے۔ اگر فوری طور پر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو  بھرپور احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ہم بہت جلد اس موضوع پر قومی موقف سامنے لا رہے ہیں۔ ہم متنازع نصاب پر وائٹ پیپر شائع کریں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ نصاب تعلیم کی ہر کمیٹی میں ملت جعفریہ کو متناسب نمائندگی دی جائے۔قومی اتفاق رائے کے بغير نصاب خصوصا دینیات کے نفاذ سے اجتناب کیا جائے اور نصاب تعلیم میں موجود  متنازعہ مواد کی اصلاح کی جائے۔

News Code 1909712

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha